خطباتِ ناصر (جلد 7 ۔1977ء، 1978ء) — Page 544
خطبات ناصر جلد ہفتہ ۵۴۴ خطبہ جمعہ ۲۲؍ دسمبر ۱۹۷۸ء فطرت میں اپنے رب سے تعلق پیدا کیا کیونکہ اس میں اپنی روح پھونکی۔اس کی فطرت کو ایسا بنایا کہ اس کی ساری استعداد یں اور طاقتیں خدا تعالیٰ کی صفات کا رنگ اپنے اوپر چڑھا سکتی ہیں اور پھر بنی نوع انسان کے ساتھ پیار کا تعلق فطرتی طور پر انسان کے اندر رکھا اور خدا تعالیٰ نے انسان کو اپنا عبد بننے کے لئے پیدا کیا لیکن اس دنیا میں مراتب اور استعدادوں کے دائروں میں بڑا فرق ہے۔ہر شخص اپنا دائرہ استعداد لے کر اس دنیا میں پیدا ہوتا ہے جیسا کہ وہ اپنی شکل لے کر پیدا ہوتا ہے اور انسانوں میں سے ایک ایسا گروہ ہے جن کو خدا تعالیٰ نے بہت وسیع دائرہ استعداد دیا ان کو اپنی قوتوں کی نشوونما کی توفیق عطا کی اور ان کے لئے سامان پیدا کئے اور پھر ان کو اپنی رحمتوں سے نوازا اور ان کو دوسروں کے لئے نمونہ بنایا۔جب ہم کہتے ہیں کہ خدا اور بندے کے درمیان واسطہ ہے تو وہ واسطہ نمونہ ہے، یہ نہیں کہ کوئی ان کے نمونے پر عمل کرے یا نہ کرے انہوں نے انگلی پکڑی اور خدا تعالیٰ کے دربار تک پہنچا دیا۔یہ ہمارا عقیدہ نہیں ہے۔ہمارا عقیدہ یہ ہے کہ سارے انبیاء اپنی قوموں کے لئے نمونہ بنے کہ دیکھو اس طرح میں نے اپنی ساری طاقتوں اور ساری استعدادوں کو خدا کے پیار کے لئے خرچ کیا ہے جن راہوں پر میں چلا ہوں ان پر تم بھی چلوتو خدا تعالیٰ کے پیار کو پالو گے۔وہ اس پیار کو پاسکتے ہیں جو ان کے نبی نے پایا لیکن نبی نبی میں فرق ہے۔شارع نبیوں میں بھی فرق ہے۔حضرت موسیٰ علیہ السلام کی پیروی کرنے والا خدا تعالیٰ کی اس محبت کو پاسکتا ہے جس محبت کو موسیٰ نے پایا لیکن موسیٰ کی شریعت پر عمل کرنے والا خدا تعالیٰ کی اس محبت کو نہیں پاسکتا جو محمد صلی اللہ علیہ وسلم نے پائی۔اس لئے کہ جس نے موسیٰ کے نمونہ کو اختیار کیا اور ان کی اتباع کی وہ اس مقام سے آگے تو نہیں نکل سکتا جہاں تک موسیٰ پہنچے تھے۔حضرت موسیٰ علیہ السلام نے تو خدا سے یہ خواہش کی تھی کہ مجھے وہ جلوہ دکھا دے جو محمدصلی اللہ علیہ وسلم پر تیرے پیار کا ہونے والا ہے تو خدا تعالیٰ نے اس سے ایک نچلا جلوہ دکھا یا تھا اور اس کی بھی ان کو برداشت نہیں تھی۔چنانچہ قرآن کریم کہتا ہے کہ وَخَرِّ مُوسى صَعِقًا (الاعراف: ۱۴۴) لیکن اُمت محمدیہ پر یہ دروازہ کھولا گیا ہے کہ تم محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے نقش قدم پر چل کر اس پیار کو حاصل کر سکتے ہو جو محمدصلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے رب سے حاصل کیا۔اتنا نہیں لیکن اس قسم کا