خطباتِ ناصر (جلد 7 ۔1977ء، 1978ء) — Page 530
خطبات ناصر جلد ہفتم ۵۳۰ خطبہ جمعہ ۸/دسمبر ۱۹۷۸ء بالکل چھوٹی سی تھی شاید غسل خانے کے لئے بنائی گئی تھی اور اس کے اندر گندم کی بوریاں پڑی ہوئی تھیں۔میں نے کہا کہ مجھے مہمان کے لئے کمرہ چاہیے۔انہوں نے کہا کہ کمرہ تو کوئی خالی نہیں ہے۔میں نے کہا یہ کمرہ خالی ہے۔گندم کی بوریاں میں باہر نکلوا دیتا ہوں اور وہاں یہ ٹھہریں گے۔انہوں نے کہا کہ ٹھیک ہے۔وہ لکھ پتی ، بڑا امیر ، بڑے آرام سے رہنے والا تھا لیکن وہ بڑی قربانی کر کے یہاں آتا ہے۔امیر بھی اور غریب بھی دونوں ہی بڑی قربانی کر کے آتے ہیں۔ان کے دل میں ایک جذبہ ہے وہ جذبہ دنیا کی محبت نہیں بلکہ جذبہ خدا کی محبت اور جذ بہ محمد رسول صلی اللہ علیہ وسلم کا پیار ہے جو ان کو یہاں لے کر آتا ہے۔میں نے ان کو کہا کہ اس میں ٹھہر جائیں گے ، تو انہوں نے مجھے کہا کہ اس سے اچھی جگہ مجھے اور کونسی ملے گی۔چنانچہ میں نے وہاں پرالی ڈلوادی اور وہ میاں بیوی وہاں ٹھہر گئے اور بہت ہی خوش تھے کہ ہمیں ٹھہرنے کے لئے اتنی اچھی جگہ مل گئی ہے۔پس اس قسم کے لوگ آتے ہیں اور اسی لئے میں کہتا ہوں کہ اگر آپ بڑے کمرے دے سکتے ہیں تو بڑے کمرے دیں۔میرے کہنے کا یہ مطلب نہیں ہے کہ اگر بڑے کمرے دے سکتے ہیں تو تب بھی ایک چھوٹی سی کو کی دے دیں لیکن اگر بڑا کمرہ نہیں دے سکتے تو یہ خیال نہ کریں کہ یہ ایک چھوٹی سی کو لکی ہے ۶۶ کی جس کے اندر آپ کی گندم کی بوریاں پڑی ہوئی ہیں جنہیں آپ بغیر خراب کئے بغیر نقصان اٹھائے عارضی طور پر کسی اور جگہ چھپر وغیرہ کے نیچے رکھ سکتے ہیں تو اسے پیش کرنے سے شرما ئیں نہ۔آنے والا مہمان جو بڑا امیر ہے وہ اس جگہ پر رہنے میں نہیں شرما تا تو آپ وہ کوٹھڑی دینے میں کیوں شرماتے ہیں۔اس لئے وہ ضرور دیں تا کہ جہاں تک ممکن ہو سکے کسی کو جلسہ سالانہ پر تکلیف نہ پہنچے۔باہر سے جو غیر ملکی آتے ہیں ان کو بعض چیزوں کی عادت ہوتی ہے مثلاً وہ خاص قسم کے غسل خانے استعمال کرتے ہیں۔خدا تعالیٰ نے جماعت کو توفیق دی اور یہاں بہت سے گیسٹ ہاؤس بن گئے لیکن وہ کافی نہیں رہیں گے۔شاید اس سال بھی کافی نہ رہیں۔بہت سے غیر ملکیوں نے میرے پاس شکایت کی انہوں نے کہا کہ ٹھیک ہے آپ نے غسل خانے بنا دئیے ورنہ ہمیں تکلیف