خطباتِ ناصر (جلد 7 ۔1977ء، 1978ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 508 of 584

خطباتِ ناصر (جلد 7 ۔1977ء، 1978ء) — Page 508

خطبات ناصر جلد ہفتم ۵۰۸ خطبه جمعه ۲۴ نومبر ۱۹۷۸ء بنیادی چیز جو یہاں ہمیں بتائی گئی ہے یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے انسان کو نیکی کی طاقتیں دیں اور اس کو یہ اختیار بھی دیا کہ ان کو نیکی کی راہوں پر خرچ کرنے کی بجائے بدی کی راہوں پر خرچ کرے لیکن وہ طاقتیں دی اس لئے گئی تھیں کہ وہ نیکی کی راہوں کو اختیار کرے۔انسان کو ان فطری صلاحیتوں کے علاوہ اس مجموعے کے علاوہ بنیادی طور پر ایک اور چیز بھی دی گئی تھی اور وہ چیز تھی دعا کرنے کی طاقت اور سمجھ۔طاقتیں خواہ کتنی ہی اچھی اور کتنی ہی بڑی کیوں نہ ہوں مثلاً کسی کا ذہن کتنا ہی اچھا کیوں نہ ہو جب تک یہ دوسری چیز یعنی دعا کی طاقت شامل نہ ہو اس کا ذہن صحیح نشو و نما حاصل نہیں کر سکتا۔پس یہاں یہ فرمایا کہ انسان بنیادی طور پر نیکی کی ساری صلاحیتیں رکھتا ہے اور بنیادی طور پر وہ صاحب اختیار بھی ہے لیکن اس کی وجہ سے اس میں بعض کمزور یاں پیدا ہو جاتی ہیں اس کو ہم بعض دفعہ تلوّن کے لفظ سے بیان کرتے ہیں اور میں نے ذرا تفصیل سے بیان کر دیا ہے کہ هَلُوع کے لفظ میں لغوی لحاظ سے دونوں معنی پائے جاتے ہیں کہ صبر کے وقت صبر نہ کرنا اور سخاوت کے وقت بخل سے کام لینا اور ان دونوں کو اگلی آیتوں میں کھول کر بیان کیا گیا ہے۔اِذَا مَسَّهُ الشَّرُّ جزوعا وہ بے صبری سے کام لیتا ہے اور هَلُوع ہے۔وَإِذَا مَسَّهُ الْخَيْرُ مَنُوعًا وہ حریص بن جاتا ہے اور بخیل بن جاتا ہے اور اس طرح پر وہ ھنوع ہے۔ان آیتوں میں بھی بنیادی طور پر بڑا وسیع مضمون بیان ہوا ہے اور ساری طاقتوں کو یہ دو لفظ اپنے احاطہ میں لئے ہوئے ہیں لیکن اس وقت اس تفصیل میں جانے کی ضرورت نہیں۔اصل بات یہاں یہ بیان کی گئی ہے کہ تمہیں جو فطرتی طاقتیں دی گئی ہیں وہ خدا نے دی ہیں اور ان طاقتوں کے استعمال کے لئے ان طاقتوں کی نشو و نما کے لئے ، ان طاقتوں سے دنیا جہان کی نعمتیں اس زندگی میں بھی حاصل کرنے کے لئے اس نے ہر دو جہاں کی ہر چیز کوتمہارا خادم بنادیا ہے لیکن چونکہ تم صاحب اختیار بھی ہو چونکہ تمہیں یہ اختیار دیا گیا ہے کہ اگر تم اپنی بدقسمتی سے اپنے خدا سے پرے جانا چاہو تو جاسکتے ہو اس لئے ضروری تھا کہ تمہیں دعا کی طاقت بھی دی جاتی۔چنانچہ فرما یا اِلَّا الْمُصَدِّينَ - پس دعا کے بغیر کوئی شخص اپنی فطری طاقتوں کا صحیح استعمال نہیں کر سکتا اور ایک وقت کی دعا