خطباتِ ناصر (جلد 7 ۔1977ء، 1978ء) — Page 501
خطبات ناصر جلد ہفتہ ۵۰۱ خطبه جمعه ۱۰/ نومبر ۱۹۷۸ء نہیں جو اس کے منصوبوں کو نا کام کر سکے۔انتم الاعلون تم بھی یہ صفت اپنے اندر پیدا کر سکتے ہو کہ تم پر کوئی غالب نہ آئے اِن كُنْتُم مُّؤْمِنِين بشرطیکہ تم قرآن کریم کی ہدایت کے تقاضوں کو پورا کرنے والے ہو۔وَالْحِكمة یہ بھی لفظی طور پر خدا تعالیٰ کی صفت حکیم کی طرف اشارہ کرتا ہے۔قرآن کریم کی شریعت انسان کو اس کی قوت اور استعداد کے مطابق خدائے حکیم کی صفت حکیم کا مظہر بنانے کے لئے دنیا کی طرف مبعوث ہوئی ہے۔اس سے بہت سے مسائل حل ہوتے ہیں اور بہت سی باتیں سامنے آتی ہیں ایک یہ ہے کہ خدا تعالیٰ کے فعل اور قول میں تضاد نہیں ہے اور مخالفت نہیں ہے اور نہ ہوسکتی ہے۔ایک تو عقلاً ان میں تضاد نہیں ہوسکتا اور دوسرے حقیقتا نہیں ہے کیونکہ اگر خدا تعالیٰ کے فعل میں اور اس کے قول قرآن کریم میں تضاد ہوتا تو محمد صلی اللہ علیہ وسلم قرآن کریم پر عمل کر کے خدا تعالیٰ کی صفات کے مظہر اتم نہیں بن سکتے تھے۔خدا تعالیٰ نے محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے اُسوہ میں یہ نشان دکھایا کہ آپ کا صفات باری کا مظہر اتم بن جانا اس بات کا ثبوت ہے کہ خدا تعالیٰ کے فعل اور اس کے قول میں کوئی تضاد نہیں ہے اور ہمیں یہ کہا گیا ہے کہ تم شیطانی وساوس کو اپنے دل سے نکال کر محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے نقش قدم پر چلو تو تم بھی اپنی قوت واستعداد کے مطابق خدا تعالیٰ کی صفات کے مظہر بن جاؤ گے اور ہر وہ شخص جو قر آنی تعلیم پر عمل کر کے اور اسوۂ نبوی صلی اللہ علیہ وسلم کی پیروی کر کے خدا تعالیٰ کی صفات کا مظہر بنتا ہے وہ اس بات کا ثبوت ہے کہ خدا تعالیٰ سے فعل اور اس کے قول میں کوئی فرق نہیں ہے۔کوئی تضاد نہیں ہے، کوئی اختلاف نہیں ہے۔ایک اور بات جو نمایاں ہو کر سامنے آتی ہے یہ ہے کہ انسان کی ہدایت کے لئے مرکزی نقطہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی ذات ہے اس لئے یہ تخیل کہ پہلے بزرگ اور انبیاء آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے آزادرہ کر ہدایت یافتہ تھے میرے نزدیک درست نہیں۔کوئی نبی جو آپ سے پہلے گزرا یا کوئی ولی یا صالح یا خدا تعالیٰ کا محبوب اور پیارا ایسا نہیں ہے جو محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی ہدایت سے علیحدہ ہو کر اور آزادانہ مستقل حیثیت میں ہدایت یافتہ ہوا ہو۔انہی معنوں میں یہ کہا گیا ہے کہ آدم ابھی معرض وجود میں بھی نہیں آیا تھا کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو خاتم الانبیاء کا مقام عطا کیا گیا تھا۔