خطباتِ ناصر (جلد 7 ۔1977ء، 1978ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 495 of 584

خطباتِ ناصر (جلد 7 ۔1977ء، 1978ء) — Page 495

خطبات ناصر جلد ہفتہ ۴۹۵ خطبه جمعه ۱۰/ نومبر ۱۹۷۸ء یہ وہم تھا کہ وہ انسان کے فائدہ کے لئے نہیں ہیں ان میں بھی فوائد ہیں۔مثلاً سانپ اور اس کا زہر ہے۔بعض لوگ تو سانپ کا لفظ سن کر بھی چھلانگ لگا کر چار پائی پر چڑھ جاتے ہیں۔اتنا ڈرتے ہیں اس سے لیکن سانپ کے زہر میں بھی انسان کے لئے بے شمار فوائد رکھے ہیں اور انسان نے تحقیق کر کے ان میں سے بعض فوائد کا علم بھی حاصل کیا ہے اور اس سے فائدہ اٹھا رہا ہے۔بہت سی ایسی بیماریاں ہیں جن کو ایک وقت میں انسان اپنی جہالت کی وجہ سے قریباً لا علاج سمجھتا تھا اور اب طب کی اور شاخوں نے بھی اور ہومیو پیتھک نے بھی سانپ کے زہروں سے ایسی ادویہ بنائی ہیں جو ایسے مریضوں کو بہت فائدہ دیتی ہیں۔اسی طرح لکھی ہے جو کہ ہر وقت تنگ کرتی ہے لیکن مکھی میں انسان کے لئے فائدہ ہے۔ایک موٹا فائدہ جو ہر ایک کو سمجھ آ جائے گا یہ ہے کہ بعض بچے سوکھے“ کے مریض ہوتے ہیں اور بچپن سے نہ ہڈی بڑھ رہی ہوتی ہے اور نہ اس کے او پر گوشت ہوتا ہے اس کو پنجابی میں سوکھا“ کہتے ہیں۔ایسے مریضوں کو اگر مکھی کسی چیز میں لپیٹ کر کھانے کے لئے دی جائے اور وہ اس کو ہضم کر لیں تو یہ سوکھے کی بیماری کا علاج ہے اور یہ تو ایک فائدہ ہے اس کے اندر اور بہت سے فوائد ہیں۔پس تمام اشیاء خدا تعالیٰ کی صفات سے اثر قبول کر رہی ہیں اور جس غرض کے لئے ان کو پیدا کیا گیا ہے (کہ وہ انسان کی خدمت کریں ) اس غرض کو وہ پورا کر رہی ہیں اور اس طرح یہ ظاہر کر رہی ہیں کہ خدا تعالیٰ صرف بادشاہ ہی نہیں بلکہ قدوس بھی ہے کیونکہ دنیا کی تمام اشیاء جو بے حد و بے شمار ہیں ان کا اثر انسان پر نیک اور پاک اور مفید ہے گندہ اور مضر نہیں ہے۔اس لئے جس چشمہ سے وہ نکلی ہیں اس پر بھی اعتراض نہیں کیا جا سکتا اپنے ان اثرات سے وہ یہ ظاہر کر رہی ہیں کہ خدا تعالیٰ پاک ہے یہ ان کی زبان ہے۔قرآن کریم نے دوسری جگہ کہا ہے کہ ہر چیز اس کی حمد کر رہی ہے اور اس کی تسبیح کر رہی ہے لیکن تم ان کی آواز کو نہیں سمجھ سکتے اور ایک آواز یہی ہے۔پتا نہیں اور کتنی آواز میں خدا تعالیٰ نے ان کو دی ہیں۔پس جیسا کہ خدائے قدوس نے کہا تھا تمام اشیاء انسان کی خدمت پر لگی ہوئی ہیں اور دنیا کی کوئی چیز ایسی نہیں ہے جس سے انسان خدمت نہ لے سکے اور صحیح ذاتی خاندانی اور علاقائی خدمت اور بنی نوع انسان کی خوشحالی اور اس