خطباتِ ناصر (جلد 7 ۔1977ء، 1978ء) — Page 494
خطبات ناصر جلد ہفتم ۴۹۴ خطبه جمعه ۱۰/ نومبر ۱۹۷۸ء ہر چیز خدا تعالیٰ کی صفات کے جلووں سے اثر قبول کرتی ہے اور خدا تعالیٰ کی صفات کے جلوے غیر محدود ہیں اس لئے اس کی پیدا کردہ ہر شے کے خواص بھی غیر محدود ہیں۔ان آیات میں ہمیں یہ بتایا گیا ہے کہ دنیا کی کوئی چیز لے لو وہ خدا تعالیٰ کی بزرگی اور اس کی پاکیزگی کو بیان کر رہی ہے اور سوائے اس کے کسی اور کی بادشاہت کو قبول نہیں کر رہی۔خدا تعالیٰ کے علاوہ اور کوئی وجود نہیں جس کی صفات کے جلووں کا اثر اس دنیا کی کسی بھی شے نے کسی رنگ میں بھی قبول کیا ہو، اگر قبول کیا ہے تو صرف خدا تعالیٰ کی صفات کے جلووں کا اثر قبول کیا ہے اس واسطے کہ وہی ان کا بادشاہ ہے۔پھر بتایا کہ ہر چیز جو خدا نے پیدا کی ہے وہ یہ ثابت کرتی ہے کہ خدا پاک ہے اور تمام خوبیوں کا مالک ہے اس لئے کہ جو چیزیں اس نے پیدا کی ہیں وہ جن اغراض کے لئے پیدا کی ہیں ان اغراض کو پورا کرنے کے لئے تمام خوبیاں اور تمام طاقتیں ان کے اندر پائی جاتی ہیں اس لئے جس منبع سے وہ نکلی ہیں اس کے متعلق بھی ماننا پڑے گا کہ وہ قدوس ہے کیونکہ اس کی پیدا کردہ مخلوق کے اندر یہ پاکیزگی پائی جاتی ہے کہ اس کا اثر بد نہیں بلکہ پاک ہے۔قرآن کریم نے یہ اعلان کیا ہے کہ خدا تعالیٰ کی مخلوق میں سے کسی چیز کا بھی اس دنیا میں بدا ثر نہیں۔ہم خود اس کے غلط استعمال سے نقصان اٹھا لیں تو یہ اور بات ہے یہ استعمال کرنے والے کی بدی ہے اس شے کی بدی نہیں۔قرآن کریم کا اعلان یہ ہے کہ سَخَّرَ لَكُمْ مَا فِي السَّمَوتِ وَ مَا فِي الْأَرْضِ جَمِيعًا مِنْهُ (الجاثية : ۱۴ ) یعنی بغیر استناد نیا کی ہر چیز کو انسان کی خدمت پر لگایا گیا ہے اگر انسان خود خدمت نہ لے یا غلط خدمت لے لے تو اس میں خادم کا تو قصور نہیں۔”خشخاش‘ کا ایک دانہ اور ہمالیہ کا یہ پہاڑ اور سورج کا یہ خاندان ( جس میں سے ایک زمین بھی ہے جو سورج سے فائدہ اٹھا رہی ہے ) یہ سب کے سب انسان کی صحیح خدمت کے لئے پیدا کئے گئے ہیں اور دنیا میں کوئی شخص ایسا نہیں جو یہ دعویٰ کر سکے کہ کوئی چیز ایسی بھی ہے جو انسان کی خدمت کی اہلیت نہیں رکھتی اور اس کا کوئی فائدہ نہیں ہے خواہ اس کا صحیح استعمال کیا جائے انسان کو اس سے فائدہ نہیں ہوگا۔اس لئے کہ ہم یہ ثابت کریں گے کہ خود دنیا نے تحقیق کر کے یہ ثابت کیا ہے کہ جن چیزوں کے متعلق بعض لوگوں کو