خطباتِ ناصر (جلد 7 ۔1977ء، 1978ء) — Page v
||| بِسْمِ اللهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيمِ نَحْمَدُهُ وَنُصَلِّي عَلَى رَسُوْلِهِ الْكَرِيمِ وَعَلَى عَبْدِهِ الْمَسِيحَ الْمَوْعُودِ خدا کے فضل اور رحم کے ساتھ هُوَ النَّاصِرُ میں لفظ سیدنا حضرت حافظ مرزا ناصر احمد صاحب خلیفہ المسیح الثالث رحمہ اللہ تعالیٰ کے فرمودہ خطبات جمعہ کی ساتویں جلد پیش خدمت ہے۔یہ جلد ۱۹۷۷ ءاور ۱۹۷۸ء کے فرمودہ ۶۲ خطبات جمعہ پر مشتمل ہے جن میں ۱۹۷۷ ء کے چار اور ۱۹۷۸ء کے دس غیر مطبوعہ خطبات بھی شامل ہیں۔جن مقدس وجودوں کو خدائے قادر مقام خلافت پر فائز کرنے کے لئے منتخب فرماتا ہے انہیں اپنی غیر معمولی تائید و نصرت سے نوازتا ہے۔ان کی زبانِ مبارک سے حقائق و معارف اور دقائق و لطائف کے دریا بہا دیتا ہے۔اس جلد میں مندرجہ ذیل خطبات جماعتی نقطہ نگاہ سے خاص اہمیت کے حامل ہیں۔ا۔۷ جنوری ۱۹۷۷ء کے خطبہ جمعہ میں حضور رحمہ اللہ تعالیٰ نے وقف جدید کے نئے سال کا اعلان کرتے ہوئے فرمایا:۔معلمین جو وقف جدید میں کام کرتے ہیں ان کا علمی معیار جامعہ احمدیہ سے پاس ہونے والے شاہدین سے بہت کم ہوتا ہے لیکن البی سلسلوں میں صرف علمی معیار ہی کوئی چیز نہیں ہوتا اس سے زیادہ اہم روحانی معیار ہے جس کی بنیاد تقویٰ پر ہے۔دعاؤں کی عادت، خدائے واحد و یگانہ پر کامل توکل، اسلام کا فدائی ہونا ، نوع انسانی کی خدمت کی تڑپ دل میں پیدا ہونا اور اسی طرح کسی انسان کی جسمانی یا اخلاقی یا روحانی تکلیف کا نا قابل برداشت ہو جانا اصل چیز ہے۔