خطباتِ ناصر (جلد 7 ۔1977ء، 1978ء) — Page 466
خطبات ناصر جلد ہفتم ۴۶۶ خطبه جمعه ۱/۲۰ کتوبر ۱۹۷۸ء یہاں تیار ہوتے ہیں۔پیسہ یہاں خرچ ہوتا ہے لیکن جب مبلغ بن جاتا ہے تو پھر اسے باہر بھجوایا جاتا ہے۔اس کے کرایہ پر خرچ کرنا پڑتا ہے۔مبلغین کے بیوی بچوں کے قیام کے اخراجات تحریک جدید کو برداشت کرنے پڑتے ہیں۔جامعہ احمدیہ پر خرچ کرنا پڑتا ہے۔بہت سے شعبے ہیں جن پر اخراجات کی تفصیل کھل کر مجلس شوری کے ذریعہ جماعت کے سامنے آجاتی ہے۔جماعت احمدیہ میں کوئی راز نہیں ہے یہ تو ایک کھلی کتاب کی طرح ہے۔اسی طرح ہماری زندگیاں بھی کھلی ہیں اور کوئی چھپانے والی چیز نہیں۔خدا کی راہ میں قربانی دے رہے ہیں۔بشاشت سے دیتے ہیں۔مسکراتے ہوئے دیتے ہیں اور جب ضرورت پڑے تو مسکراتے ہوئے جانیں بھی دے دیتے ہیں لیکن اس وقت نہ کسی سے کوئی جان مانگ رہا ہے اور نہ جان دینے کا وقت ہے۔خدا تعالیٰ سے پیار کرنے کا اور اس سے دعائیں کرنے کا وقت ہے اس لئے دعائیں کریں کہ اللہ تعالیٰ اپنے فضل سے نوازے اور جو یہاں کی ضرورتیں ہیں جن کا تعلق باہر سے ہے اور جن کا اثر بیرونی ممالک کی فلاح و بہبود سے ہے ان ضرورتوں کو پورا کرنے کی جماعت ہائے احمد یہ مرکز یہ کو تو فیق عطا کرے اور آپ جو وعدے کریں وہ اس ضرورت کے مطابق ہوں اور اس کی ضرورت خلیفہ وقت بتا تا ہے۔میں نے پچھے سال تحریک جدید کا ٹارگٹ پندرہ لاکھ روپے دیا تھا۔اس سال میں اسے بدلنا نہیں چاہتا وہی رہے گا۔میں دیکھوں گا آپ خود رضا کارانہ طور پر اس سے کتنا آگے بڑھ جاتے ہیں۔پھر اگلے سال انشاء اللہ تعالیٰ سوچیں گے کہ اس میں کیا تبدیلی کرنی چاہیے۔اللہ تعالیٰ ہم سب کو اس بات کی توفیق عطا کرے کہ جیسا کہ قرآن کریم نے بیان کیا ہے ہم بنی نوع انسان کے دوو خادم کی حیثیت سے زندگی گزارنے والے ہوں اور قرآن کریم نے یہ عظیم اعلان كُنْتُمْ خَيْرَ أُمَّةٍ أُخْرِجَتْ لِلنَّاسِ ( ال عمران : ۱۱۱) کے الفاظ میں کیا تھا۔اللہ تعالیٰ نے محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی روحانی قوتوں کے طفیل ایک ایسی اُمت کو قائم کیا ہے جو الناس ، یعنی بنی نوع انسان کے لئے بہترین امت ہے لوگوں کی خیر خواہ اور ان کے لئے دعائیں کرنے والی ہے۔وہ لوگوں کی خدمت کرنے والی اور ان کی جہالت کو علم میں اور ان کے اندھیروں کو نور میں تبدیل کرنے والی ہے۔