خطباتِ ناصر (جلد 7 ۔1977ء، 1978ء) — Page 463
خطبات ناصر جلد ہفتہ ۴۶۳ خطبه جمعه ۲۰/اکتوبر ۱۹۷۸ء اپنے پاؤں پر کھڑے ہیں لیکن چونکہ دنیا کے ہر ملک میں جماعت اتنی مضبوط نہیں ہے جو اپنے پاؤں پر کھڑی ہو یہ بھی ایک حقیقت ہے اس لئے باوجود اس کے کہ پاکستان سے موجودہ حالات میں ان کی امداد کے لئے کوئی رقم باہر نہیں بھیجی جا سکتی اور نہ بھیجی جاتی ہے۔دنیا میں ایسے ممالک پیدا ہو گئے ہیں کہ جو اپنی ضروریات سے زائد قربانی دے رہے ہیں اور پھر وہ ان ممالک کی بھی مدد کر رہے ہیں جو اپنے پاؤں پر کھڑے نہیں یعنی جو کیفیت پہلے مرکز کی تھی وہ اب ان ممالک کی ہوگئی ہے اور اس طرح جماعت احمدیہ کی بڑھتی ہوئی ضروریات پوری ہورہی ہیں اور شاہراہ غلبہ اسلام پر ہماری حرکت روز بروز تیز سے تیز تر ہوتی چلی جارہی ہے۔بیرونی ممالک کی ایسی جماعتیں جن کے مطالبات ہم نہیں پورا کر سکتے ملکی قانون کی وجہ سے وہاں ان ملکوں کی جماعتیں جہاں زرمبادلہ باہر بھجوانے کی ممانعت نہیں وہ ان کی ضرورت پورا کر رہی ہیں۔میں اس وقت دو قسم کے اعداد و شمار آپ کے سامنے رکھوں گا اور اس سے آپ کو اس کیفیت کا پتہ لگ جائے گا۔میں نے بتایا ہے کہ ۱۹۴۴ ء تک ہندوستان سے باہر ساری دنیا میں کوئی چندہ جمع نہیں ہوا۔بعض ایسے لوگ تو ہوں گے جو اپنے طور پر خرچ کرتے ہوں گے لیکن جس طرح ہم با قاعدہ چندہ دیتے ہیں اور وہ رجسٹروں پر چڑھتا ہے اور اس کا بجٹ بنتا ہے اس قسم کے چندے اکٹھے نہیں ہوئے۔چنانچہ شروع میں بیرونی ممالک کی مجالس عاملہ کے پاس بھی کوئی پیسے اپنے نہیں ہوتے تھے۔ان کو مرکز کی طرف سے بھجوائے جاتے تھے۔کجا یہ حالت تھی اور کجا اب یہ حالت ہے کہ ان کی پچھلے سال کی آمد ایک کروڑ ساٹھ لاکھ چالیس ہزار نو سوستر روپے تک پہنچ گئی ہے اور یہ ان کی اصل آمد ہے جو بطور چندہ جمع ہوئی ہے اور اس میں وہ رقم شامل نہیں ہے جو سکولوں کی فیس کے طور پر آتی ہے مثلاً صرف غانا میں ہمارے درجنوں سکول ہیں ان سے فیسیں بھی وصول ہوتی ہیں۔گو بہت سے سکولوں پر ہم خرچ بھی کرتے ہیں اور بعض کی فیسوں کی آمد بھی کم ہے لیکن فیسوں کی مجموعی آمد بھی اگر ان کے چندے میں شامل کر لی جائے تو ان کے چندے کی رقم بہت بڑھ جاتی ہے مگر اس وقت میرا یہ مضمون نہیں۔میں اس وقت یہ بتا رہا ہوں کہ وہ ساری جماعت ہائے احمد یہ بیرون مرکز یعنی جو ہمارا ملک ہے جہاں ہمارا مرکز ہے اس سے باہر کی ساری جماعتیں جو ۱۹۴۴ء تک