خطباتِ ناصر (جلد 7 ۔1977ء، 1978ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 447 of 584

خطباتِ ناصر (جلد 7 ۔1977ء، 1978ء) — Page 447

خطبات ناصر جلد ہفتم ۴۴۷ خطبه جمعه ۱۳ /اکتوبر ۱۹۷۸ء اپنی مرضی سے کبھی روح بن جاتے تھے اور کبھی مادی جسم میں حلول کر جاتے تھے۔میں نے کہا کہ یہ کوئی Theatrical Performance یعنی کوئی تماشا تو نہ تھا۔میں نے کہا کہ اگر تماشا دکھانا تھا تو انہی کو کیوں دکھایا تمہیں آکر کیوں نہیں دکھایا۔دو ہزار سال سے ایسا کرتے آتے کہ اپنی مرضی سے کبھی روحانی جسم اختیار کر لیتے اور کبھی مادی جسم اختیار کر لیتے۔خیر اس پر وہ چپ ہو گیا پھر میں نے اس سے کہا کہ مجھے یہ سمجھ نہیں آتی کہ ایک طرف تو تم انہیں خدا کہتے ہو اور دوسری طرف تمہارے بہت سے فرقے یہ کہتے ہیں کہ حضرت مسیح علیہ السلام نے خدائی کے باوجود تین دن اور تین راتیں جہنم میں گزاریں Hell میں گزاریں۔پہلا سوال تو یہ ہے کہ وہHell تھی کہاں جہاں انہوں نے تین دن رات گزارے؟ اگر وہ کوئی اور جواب دیتے تو میں اس کے لئے تیار تھا اور میرے ذہن میں تھا کہ وہ کوئی اور جواب دیں گے مگر میرے اس سوال پر کہ وہ Hell کہاں ہے؟ تو انہوں نے جواب دیا کہ۔Hell is Down Down Down کہ Hell نیچے نیچے ہے۔جب انہوں نے یہ جواب دیا تو میں نے اپنی مٹھی آگے کی اور کہا کہ فرض کرو یہ کرہ ارض ہے اور ہم یہاں ہیں۔تم کہتے ہو کہ Hell is Down Down Down اور نیچے یہ یونائیٹڈ سٹیٹس آف امریکہ ہے تو کیا حضرت مسیح علیہ السلام نے تین دن رات جہنم میں امریکہ میں گزارے تھے تو جواب دیا کہ ممکن ہے وہیں گزارے ہوں۔ان کی یونیورسٹی کا گریجوایٹ اس قسم کے جواب دے رہا ہے۔اس سے میں سمجھ گیا کہ اس وقت یہ لوگ بڑے پریشان ہیں کہ یہ کیا ہو گیا۔خود ہی دعوت دے دی اور کیتھولکس کے متعلق تو مجھے پتا تھا پندرہ بیس سال سے علم ہے کہ انہوں نے کیتھولکس کو یہ کہا ہوا ہے کہ نہ کسی احمدی سے بات کرو اور نہ کسی سے کوئی کتاب لے کر پڑھو۔ان سے بات ہی نہیں کرنی۔لندن کے اخبارات پر چرچ نے بہت دباؤ ڈالا۔پریس ریلیز سے پہلے انہوں نے کافی لکھا تھا۔ڈیلی ٹیلیگراف نے تو اپنے رنگین سنڈے ایڈیشن میں ایک لمبا چوڑا مضمون لکھ دیا اور اس میں ہمارے عقائد بھی پوری طرح بتا دیئے ، کچھ عیسائیوں کے عقائد بھی بتا دیئے۔آگے سمجھنے والے خود ہی فیصلہ کریں گے۔دیگر اخبارات نے بھی لکھا لیکن اس پریس ریلیز کے بعد لندن کے