خطباتِ ناصر (جلد 7 ۔1977ء، 1978ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 446 of 584

خطباتِ ناصر (جلد 7 ۔1977ء، 1978ء) — Page 446

خطبات ناصر جلد ہفتہ ۴۴۶ خطبه جمعه ۱۳ /اکتوبر ۱۹۷۸ء صاحب بھی تشریف لے آئے۔ہمیں یہ پوچھنے کی ضرورت ہی محسوس نہیں ہوئی کہ کسی عیسائی اخبار سے اُن کا تعلق تھا یا نہیں تھا وہ آئے تھے۔آئیں تشریف رکھیں باتیں ہوں گی۔میری یہ عادت ہے کہ میں پریس کانفرنس میں سوائے اسلام کی باتوں کے اور کوئی بات نہیں کرتا۔سیاست کی بات میں اس لئے نہیں کرتا کہ نہ میں سیاسی آدمی ہوں اور نہ جماعت احمدیہ کو سیاست سے کوئی غرض ہے اور وہ لوگ یہ چاہتے ہیں کہ کوئی سیاسی بات شروع ہو جائے تا کہ اگر اخبار میں کچھ دینا چاہیں تو جو سیاسی باتیں ہوں ان کا ذکر کر دیں اور اسلام کے متعلق کچھ بھی نہ لکھیں اور میں نہیں چاہتا کہ ان کو ایسا کرنے دیا جائے۔جب میں صرف اسلام کی بات کروں گا تو یا تو وہ کچھ بھی نہیں لکھیں گے اور اگر لکھیں گے تو اسلام کے متعلق ہی لکھیں گے۔میں نے باتیں شروع کر دیں۔جس طرح دینی تعلیم دینے کے لئے ہمارا جامعہ احمدیہ ہے اسی طرح ان کی اپنی یو نیورسٹیاں ہیں جہاں وہ پادریوں کو مذہبی تعلیم دیتے ہیں۔وہ پادری صاحب کہنے لگے کہ میں وہاں کا گریجوایٹ ہوں یعنی بہت تعلیم یافتہ پادری تھے۔مجھے خود ہی پوچھنے لگے کہ آپ کہتے ہیں کہ مسیح علیہ السلام صلیب پر فوت نہیں ہوئے صلیب سے زندہ اتارے گئے ، آپ کے پاس اس کی کیا دلیل ہے۔میں نے بتایا ہے نا کہ میں سوائے اسلام کے اور کوئی بات ہی نہیں کرتا۔انہوں نے خود ہی بات چھیڑ دی۔میں نے انہیں کہا کہ مجھ سے دلائل مت پوچھو حضرت مسیح علیہ السلام کے حواری تمہیں پہلے ہی کافی دلائل دے چکے ہیں۔میں نے کہا کہ حواریوں کا یہ بیان ہے کہ صلیب پر چڑھائے جانے کے کئی دن بعد حضرت مسیح پیدل ان کے ہم سفر ہوئے کئی میل کا سفر کیا ، تھک گئے اور تھکاوٹ کے آثار دیکھ کر حواریوں نے کہا کہ آگے نہ جائیں بلکہ رات ہمارے ساتھ گزاریں اور آرام کریں۔اس سفر میں وہ بھوک سے اتنے نڈھال ہو گئے کہ مانگ کر ان سے کھانا کھایا اور انجیل کہتی ہے کہ حواریوں نے مچھلی اور شہد ان کے سامنے پیش کیا اور انہوں نے وہ کھایا۔غرض پیدل چلے تھک گئے ، بھوک لگی کھانا کھایا ، رات وہاں سوئے۔کیا وہ خدا تھے؟ اور یہ صلیب پر چڑھائے جانے کے کئی روز بعد کا واقعہ ہے اور یہ انجیل میں لکھا ہے اور حواریوں نے اسے بیان کیا ہے تو اس کے جواب میں مجھے کہنے لگا کہ او ہو آپ تو بات ہی نہیں سمجھتے۔بات یہ تھی کہ وہ