خطباتِ ناصر (جلد 7 ۔1977ء، 1978ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 445 of 584

خطباتِ ناصر (جلد 7 ۔1977ء، 1978ء) — Page 445

خطبات ناصر جلد ہفتم ۴۴۵ خطبه جمعه ۱۳ /اکتوبر ۱۹۷۸ء کرنے کے لئے تیار ہی نہیں ہیں۔عقل ہمیں یہ کہتی ہے کہ تبادلۂ خیال کرنے کی ضرورت اسی وقت پڑتی ہے جب دو گروہوں کے پختہ عقائد میں تضاد پایا جائے یا اختلاف پایا جائے۔اگر ساری دنیا ایک عقیدے پر متفق ہو جائے تو تبادلۂ خیال کرنے کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔اپنے جواب میں بھی میں نے یہی کہا تھا کہ تمہارا پختہ عقیدہ یہ ہے کہ تین خدا ہیں اور مسیح ان میں سے ایک ہے اور ہمارا عقیدہ یہ ہے کہ خدا کی وحدانیت اس عالمین کی بنیاد ہے۔اب یہ دو متضاد عقائد ہیں۔پس ہمارا مذ ہبی اختلاف ہو گیا۔ہمیں پیار کے ساتھ بیٹھ کر ایک دوسرے کو دلائل دے کر سمجھانا چاہیے لیکن اس کا جواب یہ دیا کہ چونکہ ہمارا یہ عقیدہ ہے اس لئے ہم بحث نہیں کرتے۔بہر حال انہوں نے اس طرح چھٹکارا حاصل کر لیا اور میرا یہ خیال نہیں کہ کونسل آف چرچر بھی اس بات پر آمادہ ہو۔یہ میں اس لئے کہتا ہوں کہ اس وقت کی دنیا میں تھوڑے بہت عقل کے تقاضے بھی مانے جانے لگ گئے ہیں یعنی دنیا کہتی ہے کہ ہمیں عقل کے کچھ نہ کچھ تقاضے تو پورے کرنے چاہئیں۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے یہ بات کھول کر بیان کی ہے وہ یہ کہ بعض باتیں بالائے عقل ہوتی ہیں اور ہم انہیں مانتے ہیں۔مثلاً خدا تعالیٰ کی صفات کا اور ان صفات کے جلووں کا احاطہ کر لینا عقل کی طاقت میں نہیں ہے بلکہ یہ بات بالائے عقل ہے اور بعض باتیں خلاف عقل ہوتی ہیں ،عقل کہتی ہے کہ ایسا ہو ہی نہیں سکتا۔پس یہ دو علیحدہ علیحدہ چیزیں ہیں مثلاً یہ کہنا کہ یہ تین انگلیاں تین بھی ہیں اور ایک بھی ہے یہ خلاف عقل ہے بالائے عقل نہیں ہے۔میں یہ جب کہتا ہوں کہ وہ تبادلۂ خیال نہیں کریں گے تو یہ اس لئے کہتا ہوں کہ آج کی دنیا میں عقل نے یہ منوالیا ہے کہ کچھ نہ کچھ تو میری بھی مانو اور اگر وہ عقل کی ما نہیں تو انہیں اپنے عقائد چھوڑنے پڑتے ہیں اور ان لوگوں کو اپنی کمزوری کا بے حد احساس پیدا ہو چکا ہے۔اب میں وقت اور مکان ہر دو کے لحاظ سے تھوڑی سی چھلانگ لگا کر آپ کو سٹاک ہالم جو سویڈن کا دارالحکومت ہے لے جاؤں گا۔۴ رجون کو تبادلۂ خیال والی بات شروع ہوئی تھی اور یہ جولائی کے آخر کی بات ہے کہ میں سٹاک ہالم میں تھا تو وہاں پریس کانفرنس میں ایک پادری