خطباتِ ناصر (جلد 7 ۔1977ء، 1978ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 427 of 584

خطباتِ ناصر (جلد 7 ۔1977ء، 1978ء) — Page 427

خطبات ناصر جلد ہفتم ۴۲۷ خطبه جمعه ۱۵ ستمبر ۱۹۷۸ء ہر شخص اپنی نیت ، کوشش اور استعداد کے مطابق ثمرہ حاصل کرتا ہے خطبه جمعه فرموده ۱۵ رستمبر ۱۹۷۸ء بمقام مسجد فضل - لندن تشہد وتعوذ اور سورۃ فاتحہ کی تلاوت کے بعد حضور انور نے فرمایا:۔اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:۔لَقَدْ خَلَقْنَا الْإِنْسَانَ فِي كَبَدٍ ( البلد : ۵) کہ ہم نے انسان کو رہین محنت بنایا ہے۔" في كبد “ کے معنے حضرت مصلح موعود رضی اللہ عنہ نے تفسیر صغیر میں رہین محنت کے کئے ہیں وہی معنے میں اس وقت لے رہا ہوں یعنی انسان کو ایسا بنایا ہے کہ وہ اپنی محنت کا رہین ہے۔اس سے بہت سی باتوں کی طرف اشارہ کیا گیا ہے۔محنت اس وقت ہی ہو سکتی ہے جب محنت کرنے کی قوتیں اور استعداد میں بھی ہوں۔بعض بچے لاتوں کی کمزوری لے کر پیدا ہوتے ہیں۔کئی ایسے بچے ہیں میرے پاس بھی خطوط آتے رہتے ہیں کہ تین ، چار سال کا بچہ ہے وہ ٹھیک طرح کھڑا ہی نہیں ہو سکتا۔اب ایسا بچہ دوڑنے کی استعداد نہیں رکھتا تو دوڑ کے میدان میں محنت کر کے انعام حاصل نہیں کر سکتا اس لئے کہ دوڑنے کی طاقت ہی اس کے اندر موجود نہیں تو رہین محنت انسان کو بنایا ہے۔یہ ہمیں بتاتا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے یہاں یہ بھی فرمایا کہ انسان کو بہت سی قوتیں اور طاقتیں عطا کی گئی ہیں جن کو وہ استعمال کر سکتا ہے۔پھر جب خدا تعالیٰ کی طرف سے یہ اعلان ہوا کہ انسان کو ر بین محنت بنایا ہے تو اس میں اس طرف