خطباتِ ناصر (جلد 7 ۔1977ء، 1978ء) — Page 421
خطبات ناصر جلد ہفتم ۴۲۱ خطبه جمعه ۲۵ /اگست ۱۹۷۸ء خلافت گزرگئی۔اس خلافت میں حضرت نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابہ جنہوں نے آپ سے تربیت حاصل کی تھی بڑی کثرت سے پائے جاتے تھے اور پھر اسلام پھیلنا شروع ہوا اور عرب سے بھی باہر نکل گیا۔کم تربیت یافتہ لوگ اسلام میں داخل ہو گئے ان میں سے بعض نے جزئیات میں اپنی مرضی چلانی شروع کر دی مثلاً قرآن کریم نے کہا ہے کہ تیسری طلاق بائن ہے یعنی اس کے باوجو درجوع نہیں ہو سکتا جس طرح پہلی دو طلاقوں میں ہو سکتا ہے اور یہ تین طلاقیں جن میں تیسری بائن ہو جاتی ہے یہ ایک معین وقفہ کے بعد ہونی چاہئیں جو کم سے کم وقفہ ہے اس کا قرآن کریم میں ذکر ہے یہ ایک فقہی مسئلہ ہے اس کی تفصیل میں میں نہیں جانا چاہتا۔حضرت عمر رضی اللہ عنہ کے زمانہ میں لوگوں نے یہی کرنا شروع کر دیا کہ تین طلاقیں اکٹھی کہہ دیں اور جس وقت معاملہ قاضی کے پاس گیا تو کہہ دیا کہ شرع تو یہ کہتی ہے کہ تین طلاقیں اکٹھی ہو ہی نہیں سکتیں۔حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے ایسے لوگوں سے فرمایا میں تمہیں شرع سے مذاق نہیں کرنے دوں گا اور استہز انہیں کرنے دوں گا۔آپ نے ایسے لوگوں سے کہا تم تین کہو گے میں تین کہہ دوں گا۔بائن کر دوں گا۔صحابہ موجود تھے۔ان میں سے کسی نے نہیں کہا کہ شریعت موجود ہے آپ یہ کیا کہہ رہے ہیں اس لئے کہ شریعت کا بڑا اور بنیادی حکم یہ ہے کہ شریعت اسلامیہ سے استہز ا نہیں کرنے دیا جائے گا اور طلاق کے سلسلہ میں ہی ہے کہ خدا تعالیٰ کہتا ہے کہ اس کے احکام کو استہزا کا نشانہ نہ بناؤ۔آیت کے اسی جزو کے ماتحت حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے فتویٰ دیا تھا۔جہاں تک خلع اور طلاق کا تعلق ہے اگر کوئی خاوند صرف مہر کی ادائیگی سے بچنے کے لئے عورت کو تنگ کرتا ہے کہ وہ خلع لے لے اور سمجھتا ہے کہ اس طرح اس کو مہر نہیں دینا پڑے گا تو وہ بڑا احمق ہے اسے جماعت چھوڑ دینی چاہیے۔میں تمہیں شریعت اسلامیہ سے استہز ا نہیں کرنے دوں گا جس طرح حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے نہیں کرنے دیا تھا اور اس اصول کے ماتحت کوئی خلیفہ پہلے خلیفہ کے فیصلوں کا پابند نہیں یہ بھی دوست اچھی طرح سے سن لیں۔اس نے اپنے حالات کے مطابق شریعت اسلامیہ کے وقار اور عزت اور احترام کو قائم کرنا ہوتا ہے۔حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے وہ فیصلہ کیا جو حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ نے نہیں کیا تھا وہ پابند نہیں تھے۔کوئی کھڑا ہو جا تا اور