خطباتِ ناصر (جلد 7 ۔1977ء، 1978ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 415 of 584

خطباتِ ناصر (جلد 7 ۔1977ء، 1978ء) — Page 415

خطبات ناصر جلد ہفتم کہ خلیفہ بن جائیں گے میں نے کہا :۔۴۱۵ خطبه جمعه ۲۵ /اگست ۱۹۷۸ء "No sane person can aspire to this۔" کوئی عقلمند آدمی سوچ بھی نہیں سکتا کیونکہ یہ اتنی بڑی ذمہ داری ہے کوئی سوچے گا کیسے۔کوئی احمق ہی ہوگا، پاگل ہو گا جو یہ کہے گا کہ مجھے یہ ذمہ داری مل جائے۔خلافت کے متعلق یہ جاننا چاہیے کہ بعض بیوقوف دماغ یہ سمجھتے ہیں کہ مثلاً حدیث میں آتا ہے کہ ایک وقت آئے گا جہنم میں سے ہر آدمی کا جب علاج ہو جائے گا تو باہر نکل آئے گا خدا کی پرستش کے مطابق جو سزا ہے وہ مل چکی ہوگی تو جہنم خالی ہو جائے گی۔جب جہنم خالی ہو جائے گی تو وہاں تمثیلی زبان میں نہ دروازے بند ہوں گے نہ پہرہ دار ہوں گے اور ہوا جہنم کے دروازوں کو ہلا رہی ہو گی۔وہ کھلے ہوں گے آگ ختم ہو چکی ہوگی کوئی بھی نہیں ہوگا اس میں۔بعض بیوقوف یہ سمجھتے ہیں کہ خدا تعالیٰ کا در بار بھی نعوذ باللہ اسی طرح اس کی حمد وثنا کرنے والوں سے خالی ہو جاتا ہے۔خدا تعالیٰ کے دربار میں تو ہر وقت ایسے لوگ موجود رہتے ہیں جو اپنی اپنی سمجھ کے مطابق اور استعداد کے مطابق اس کو پہچاننے والے، اس کے آگے جھکے ہوئے ، اس کی حمد کرنے والے، اس کی تسبیح کرنے والے اور اس کے قرب کو حاصل کرنے کی تڑپ رکھنے والے ہوتے ہیں۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے کیا ہی پیارا شعر فرمایا ہے۔یہ سراسر فضل و احساں ہے کہ میں آیا پسند ورنہ درگہ میں تری کچھ کم نہ تھے خدمت گزار ہزاروں لاکھوں آدمی، خدا کے بندے خدا کے دربار میں حاضر رہتے ہیں۔کوئی ایک آدمی یہ سمجھے کہ خدا مجبور ہو گیا میں اکیلا اس کے دربار میں تھا اور اس نے مثلاً میں اپنی مثال لیتا ہوں، اگر میں یہ سمجھوں کہ میں اکیلا ہی تھا اور خدا مجبور ہوا مجھے خلیفہ مقرر کرنے کے لئے یعنی مجھے پکڑلے اور خلیفہ مقرر کر دے تو میرے جیسا پاگل دنیا میں اور کوئی نہیں ہوسکتا۔اس بھرے دربار میں سے خدا نے اپنی مرضی چلائی۔ہم تو اس وقت ( یعنی انتخاب خلافتِ ثالثہ کے وقت ) آنکھیں نیچی کئے ہوئے اپنے غم میں اور اپنی فکروں میں بیٹھے ہوئے تھے لیکن یہ سمجھنا کہ جس آدمی کو خدا تعالیٰ کسی کام