خطباتِ ناصر (جلد 7 ۔1977ء، 1978ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 414 of 584

خطباتِ ناصر (جلد 7 ۔1977ء، 1978ء) — Page 414

خطبات ناصر جلد ہفتم ۴۱۴ خطبه جمعه ۲۵ /اگست ۱۹۷۸ء بڑا سمجھاتے ہیں سمجھیں بھی تب بھی نہیں مانتے یعنی عجیب ان کے دماغ ہو گئے ہیں۔ان کو ایسی گندی عادتیں پڑ گئی ہیں کہ گند سوچنا اور گندہ کام کرنا ان کی زندگی کا حصہ بن گیا ہے۔جب ہم ان کے سامنے اسلام کی تعلیم پیش کرتے ہیں تو کبھی کوئی یہ کہ دیتا ہے کہ آپ نے اتنی دیر کیوں کر دی اسلام کی اتنی اچھی تعلیم بتانے میں ، جب ہم اور بھی زیادہ گند میں دھنس گئے تب آپ یہ تعلیم لے کر آگئے۔کوئی یہ کہہ دیتا ہے اسلام کی اتنی اچھی اور حسین تعلیم ہے آپ اسے ہمارے عوام تک کیوں نہیں پہنچاتے ؟ پس کوئی کچھ کہتا ہے اور کوئی کچھ لیکن خود کہنے والے بھی اپنی عادتوں کو بدلنے کے لئے تیار نہیں۔وہ اپنی جگہ پر کھڑے ہیں ان کو خدا تعالیٰ کی قدرت ہی بدل سکتی ہے۔اس لئے میں جماعت کو تو جہ دلاتا ہوں کہ ساری دنیا کے انسان کے لئے دعائیں کریں۔خصوصاً اُن کے لئے دعائیں کریں جو گندی زیست کی خوگر اور نام نہاد تہذیب نو کی حامل قو میں ہیں کہ اللہ تعالیٰ اُن کی زندگیوں میں انقلاب بپا کرنے کے سامان پیدا کرے اور وہ حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے حسن و احسان کو پہچانیں اور جس خدائے واحد و یگانہ کو حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم نے دنیا کے سامنے پیش کیا ہے اس کی معرفت حاصل کریں اور خدا کے پیار کے دروازے ان قوموں پر بھی اسی طرح کھلیں جس طرح ہزاروں لاکھوں احمدیوں پر کھلے ہیں۔ایک اور دعا ہے جماعت کی میں نے یورپ میں بھی کہا۔۱۹۶۷ء میں کوپن ہیگن میں پادری اور کچھ اور دوست بارہ حواریوں کی تعداد میں مجھ سے ملنے کے لئے آئے ہوئے تھے ان سے بھی میں نے کہا تھا کہ میں سمجھتا ہوں مجھ میں اور جماعت میں کوئی فرق نہیں کیونکہ یہ ایک ہی وجود کے دو نام ہیں۔سب کا مقصد ایک ہے، ایک جہت ہے جس کے لئے ہم کوشش کر رہے ہیں ایک مقصد ہے جس کے لئے ہم دعائیں کر رہے ہیں اور اللہ تعالیٰ کے حضور اپنی اپنی بساط کے مطابق قربانیاں پیش کر رہے ہیں اور اخلاص اور وفا کا نمونہ دکھا رہے ہیں۔پس خلیفہ وقت اور جماعت کو علیحدہ کیسے کیا جاسکتا ہے ساری جماعت اپنی جگہ دعائیں کر رہی ہے لیکن یہ جو ایک وجود ہے اس میں خلافت کا ایک بڑا ہی اہم مقام ہے اور یہ نہ خریدا جا سکتا ہے اور نہ چھینا جا سکتا ہے یہ اللہ تعالیٰ کی دین ہے۔اسی سفر میں مجھ سے کسی نے پوچھا کہ خلافت سے پہلے کبھی آپ نے سوچا