خطباتِ ناصر (جلد 7 ۔1977ء، 1978ء) — Page 405
خطبات ناصر جلد ہفتم ۴۰۵ خطبہ جمعہ ۲۱؍ جولائی ۱۹۷۸ء پڑے۔وہ اچھی عادتیں اختیار کریں۔نیک تربیت حاصل کر کے اسلامی معاشرہ کا بہترین وجود ثابت ہوں۔حضور نے فرمایا:۔اگر کبھی میاں بیوی کے درمیان اختلاف پیدا ہو جائے اور تلخی راہ پا جائے تو اسلام نے ابتدائی طور پر اس کے تدارک کے لئے یہ حکم دیا ہے کہ میاں اور بیوی دونوں کی طرف سے ایک ایک ثالث مقرر کیا جائے جو دونوں کے درمیان صلح کرانے کی کوشش کریں۔اس پر بھی اگر حالات نہ سدھر میں اور نباہ ممکن نہ رہے تو پھر طلاق یا خلع کا حق دیا ہے جسے نہایت حزم واحتیاط اور عزت و آبرو کے ساتھ استعمال کرنے کی تلقین کی گئی ہے۔حضور نے خطبہ کے آخر میں فرمایا:۔بیرونِ ملک خصوصاً انگلستان میں جماعت کی بڑھتی ہوئی تعداد اور بعض ازدواجی تنازعات کے پیش نظر میں چاہتا ہوں کہ انگلستان میں بھی قضاء کا مستقل محکمہ قائم کر دیا جائے۔جس طرح مرکز سلسلہ کا محکمہ براہ راست خلیفہ وقت کے ماتحت کام کرتا ہے اسی طرح یہاں بھی وہ براہِ راست خلیفہ وقت کے ماتحت کام کرے۔میں یہاں کے کسی دوست کو قاضی مقرر کر دوں گا تا کہ احباب جماعت اسلامی تعلیم کے مطابق اپنے فیصلے پیار اور محبت سے طے کر لیا کریں اور ازدواجی معاملات میں بھی اسلامی تعلیم پر عمل پیرارہ کر اسلامی معاشرہ کا ایک عمدہ نمونہ بن جائیں۔روزنامه الفضل ربوه ۱۵ / اگست ۱۹۷۸ء صفحه ۲)