خطباتِ ناصر (جلد 7 ۔1977ء، 1978ء) — Page 404
خطبات ناصر جلد ہفتم حضور نے فرمایا:۔۴۰۴ خطبہ جمعہ ۲۱؍جولائی ۱۹۷۸ء اس کا ئنات میں نر اور مادہ کا نظام قائم ہے۔انسان کے اندر بھی یہ نظام ازدواجی رشتے کی صورت میں قائم ہے۔قرآن کریم نے اس رشتے کو کھیتی سے تعبیر کیا ہے۔مرد کی حیثیت اس کھیتی میں ایک اچھے پیج کی ہے یعنی اچھی کھیتی تبھی پیدا ہوتی ہے جب بیچ اچھا ہو اور کھیتی کے حقوق پورے کئے جائیں۔عورت کو معاشرہ میں اس کا صحیح مقام حاصل کرنے کے لئے اسے جس چیز کی ضرورت ہے وہ اس کو مہیا کی جائے تا کہ وہ ایک اچھی ماں بن سکے۔اس کے دامن تربیت میں بچے عمدہ تربیت پائیں اور با اخلاق انسان بنیں۔حضور نے فرمایا:۔قوام ہونے کی حیثیت میں مرد کی یہ ذمہ داری ہے کہ وہ باہر نکل جائے اور اپنی اور اپنی بیوی بچوں کی ضروریات کو پورا کرنے کے لئے کما کر لائے۔عورت کا کام گھر سنبھالنا اور بچوں کی تعلیم و تربیت کرنا ہے۔جس کے لئے اسے خود دین کا علم ہونا ضروری ہے۔اگر وہ خود دیندار اور شائستہ مزاج نہ رکھتی ہوگی تو اولاد کی کما حقہ تربیت نہ کر سکے گی۔غرض میاں بیوی کی ذمہ داریوں اور ان سے بطریق احسن عہدہ برآ ہونے کے لئے اسلام نے واضح تعلیم دی ہے۔اسی طرح هُنَّ لِبَاسٌ تَكُمْ وَ اَنْتُمْ لِبَاسٌ لَّهُنَّ کہہ کر ایک دوسرے کی عزت اور احترام ، تقدس اور وقار قائم کرنے کی تعلیم دی گئی ہے جس طرح لباس انسان کے ستر کو ڈھانپ دیتا ہے اور اس کی زینت کا باعث بنتا ہے اسی طرح خاوند اور بیوی کا رشتہ بھی ایک دوسرے کی کمزوریوں کو ڈھانپنے اور ان کی زینت کو بڑھانے اور عزت اور وقار کو قائم کرنے کا ذریعہ ہے چنانچہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے کہ بہترین مرد وہ ہے جو اپنی بیوی سے اچھا سلوک کرتا ہے اور اس کے حقوق پورے کرتا ہے۔غرض اللہ تعالیٰ نے بحیثیت انسان عزت اور احترام کا جو مرتبہ مرد کو دیا ہے ویسا ہی درجہ عورت کو بھی دیا ہے۔عورت کی عزت اور احترام کرنا مرد کی ذمہ داری ہے اسی طرح بیوی کا یہ فرض ہے کہ وہ بھی مرد کی عزت اور احترام کرے اور یک رنگ اور یک جان ہو کر زندگی گزاریں تاکہ ان کے ماحول میں سکون اور اطمینان اور خوشحالی پیدا ہو اور ان کے بچوں پر بھی اچھا اثر