خطباتِ ناصر (جلد 7 ۔1977ء، 1978ء) — Page 26
خطبات ناصر جلد ہفتم ۲۶ خطبہ جمعہ ۲۸ / جنوری ۱۹۷۷ء۔سے پہلے کہ اپنے بتوں کو توڑو اور جلا دو، خود اپنے صحن سینہ کو ہر قسم کے بتوں سے پاک کرنا چاہیے۔اس کے بغیر تو کوئی دوسرا آدمی ہماری بات نہیں مانتا۔اگر ہزار بت خود ہمارے اندر ہی پل رہے ہوں اور ہمیں خدا سے دور لے جانے والے ہوں تو ہم تو حید خالص کو دنیا میں قائم ہی نہیں کر سکتے۔پس تحریک وقف عارضی در اصل اصلاح نفس کے لئے ، اپنے محاسبہ کے لئے اور دوسروں کو اس طرف توجہ دلانے کے لئے جاری کی گئی تھی اور تعاوَنُوا عَلَى الْبِرِّ وَالتَّقْوَى (المائدة : ۳) کی عملی تفسیر کی شکل میں اسے جاری کیا گیا تھا۔بڑا اچھا کام ہوا ہے۔اب تک ۲۵ ہزار کے قریب وفود جاچکے ہیں اور یہ بڑا اچھا کام ہے۔اللہ تعالیٰ جانے والوں کو اور ان سے فائدہ اٹھانے والوں کو ا پنی رحمتوں سے نوازے لیکن جیسا کہ میں نے کہا ہے ہماری ذمہ داری ایک قائم رہنے والے اور وسعت اختیار کرنے والے تسلسل کو چاہتی ہے۔اس ذمہ داری میں عملاً ایک وسعت پیدا ہو رہی ہے۔شروع میں جس وقت کسی زمانہ میں ایک ہزار احمدی تھا تو ایک ہزار آدمی کوسنبھالنے کی ذمہ داری تھی اور جس وقت وہ ایک کروڑ کے قریب پہنچ رہا ہے تو ایک کروڑ آدمی کو سنبھالنے کی ذمہ داری ہے۔یہ اندرونی ذمہ داری ہے۔اس حرکت میں شدت پیدا ہورہی ہے اور خدا کے فضل سے کامیابی ہو رہی ہے اور نظر آتا ہے کہ ہم اپنے مقصد کے بہت قریب آتے جا رہے ہیں۔وہ وسعت ہماری ذمہ داریوں کو بہت بڑھا رہی ہے اور یہ ذمہ داری انسانوں کے کندھوں پر ، ان انسانوں کے کندھوں پر جنہوں نے خود کو مہدی علیہ السلام کی طرف منسوب کیا ہے اور حضرت محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی جو بشارتیں تھیں کہ اسلام اس زمانہ میں غالب آئے گا مہدی علیہ السلام کے ساتھ وابستہ ہو کر یہ عہد کیا ہے کہ وہ اس مقصد کے حصول کے لئے قربانیاں دیں گے اور اللہ کا فضل ہے کہ جماعت کا ایک بڑا حصہ ہر لحاظ سے قربانیاں دے رہا ہے۔جہاں تک وقف عارضی کا تعلق ہے اس میں پندرہ دن ایک خاص شکل میں قربانیاں دینے کا سوال ہے (وقف عارضی تو ہم نے نام رکھ دیا ہے ) جانے والے بھی روحانی اور اخلاقی طور پر اس سے فائدہ اٹھاتے ہیں اور جہاں ان کو بھیجا جاتا ہے وہ بھی فائدہ اٹھاتے ہیں۔ان کی طرف سے بھی مجھے غالباً ہزاروں خطوط وصول ہو چکے ہیں کہ انہیں وقف عارضی کے وفود کے آنے سے اور