خطباتِ ناصر (جلد 7 ۔1977ء، 1978ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 384 of 584

خطباتِ ناصر (جلد 7 ۔1977ء، 1978ء) — Page 384

خطبات ناصر جلد ہفتم ۳۸۴ خطبہ جمعہ ۹/جون ۱۹۷۸ء دنیا کے دل میں آہستہ آہستہ ایک انقلاب پیدا کرتا رہا۔ایک نسل کے بعد دوسری نسل یہ ذمہ داری اٹھاتی رہی اور اس مہم کو آگے بڑھاتی رہی۔آخر تیرہ صدیاں گزرنے کے بعد اس مہدی کا ظہور ہوا جس کے متعلق تمام بزرگوں نے قرآن کریم کی اس آیت کریمہ هُوَ الَّذِي أَرْسَلَ رَسُولَهُ بِالْهُدَى وَدِينِ الْحَقِّ لِيُظْهِرَهُ عَلَى الدِّينِ كُلِم کی رُو سے کہا ہے کہ دینِ اسلام کے کامل غلبہ کا زمانہ مہدی کا زمانہ ہے لیکن وہ جو ایک جدو جہد تھی اور غلبہ اسلام کے لئے قربانی اور ایثار پیش کرنے کی مہم تھی وہ تو پہلے دن سے جاری ہو چکی تھی اور آگے ہی آگے بڑھتی چلی جا رہی تھی جس نے مہدی معہود کے ذریعہ اپنی انتہا کو پہنچنا تھا۔اس لئے ہمیں یہ بتایا گیا تھا کہ مہدی علیہ السلام کے ذریعہ اس زمانہ میں تمام ادیانِ باطلہ کے خلاف علمی لحاظ سے ایسا مواد جمع کر دیا جائے گا کہ دوسرے مذاہب کے پیرو اسلام کا مقابلہ نہیں کر سکیں گے۔ان میں عیسائیت بھی ہے ان میں بدھ مت بھی ہے پارسیوں کا زرتشتی مذہب بھی ہے اور ہندو مذہب بھی ہے ، آریہ اس کا ایک فرقہ ہے جو اسلام کی مخالفت میں بڑی تیزی سے اُبھرا۔علاوہ ازیں میری فکر کے مطابق لوگوں کے وہ نظریات بھی اس میں آجاتے ہیں جو مذہب تو نہیں لیکن ازم کہلاتے ہیں یعنی وہ خیالات جن کے ذریعہ کوئی فلسفہ یا انسانی معاشرہ یا کوئی تمدن قائم ہوتا ہے مثلاً اشتراکیت ہے یا سوشلزم ہے اور اسی طرح آئے دن دوسرے بہت سے ازم ہیں جو اُبھرتے اور مٹتے چلے آرہے ہیں۔اب یہ کوئی نہیں کہہ سکتا کہ اسلام اشتراکیت پر غالب نہیں آئے گا یا سوشلزم پر غالب نہیں آئے گا یا دوسرے نظریات پر غالب نہیں آئے گا بلکہ ہر وہ مذہب اور نظریہ یا دنیوی فلسفہ جو اسلامی تعلیم کے خلاف ہے اسلام اُس پر بھی غالب آئے گا۔جب ہم حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی کتب کا مطالعہ کرتے ہیں اور آپ کی تحریرات پڑھتے ہیں یا آپ کے ملفوظات ہمارے زیر مطالعہ آتے ہیں اور اُن پر غور کرتے ہیں تو ہم اِس نتیجہ پر پہنچنے پر مجبور ہو جاتے ہیں کہ پہلوں نے جو یہ کہا تھا کہ مہدی کے زمانہ میں اسلام ادیان باطلہ اور ہر قسم کے از مز (Isms) پر غالب آئے گا وہ درست کہا تھا کیونکہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے علم کلام تفسیر قرآن اور آسمانی نشانات اور دعاؤں کی قبولیت میں اتناز بر دست مواد ملتا ہے کہ