خطباتِ ناصر (جلد 7 ۔1977ء، 1978ء) — Page 385
خطبات ناصر جلد ہفتہ ۳۸۵ خطبہ جمعہ ۹/جون ۱۹۷۸ء عقلِ انسانی یہ بات سمجھنے پر مجبور ہو جاتی ہے کہ وعدہ کا دن یا مجھے یوں کہنا چاہئے کہ وعدہ کا زمانہ آچکا ہے مگر جیسا کہ میں نے بتایا ہے یہ ایک دن کا کام نہیں اس کے لئے مسلسل جدوجہد کی ضرورت ہے۔جہاں تک عیسائیت کا سوال ہے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی زندگی میں دنیائے عیسائیت نے بڑے زبر دست نشان دیکھے۔امریکہ میں ڈاکٹر ڈوئی تھا اس کے بڑے دعوے تھے۔وہ بڑی شان کے ساتھ محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے مہدی کے خلاف اٹھا تھا اور بڑی ذلّت کے ساتھ اُس نے شکست کھائی تھی اور اُس وقت کے اخبارات اس عظیم نشان سے بھرے پڑے ہیں۔پھر خود ہندوستان میں عیسائیوں کے ساتھ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کا مناظرہ ہوا جس میں دلائل کے ساتھ اور بڑے عظیم علم کلام کے ذریعہ اسلامی تعلیم کی برتری ثابت ہوئی۔یہ آتھم کے ساتھ مناظرہ ہوا تھا جو جنگ مقدس کے نام سے چھپا ہے۔پھر نشانوں کی دُنیا میں جس طرح حضرت مسیح ناصری علیہ السلام کو اُن کے دشمنوں نے صلیب پر لٹکا کر مار دینا چاہا لیکن وہ ناکام ہوئے ، اسی طرح محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف منسوب ہونے والے اس مسیح کے خلاف بھی عیسائی دنیا نے سازشیں کیں کہ کسی طرح وہ پھانسی چڑھ جائیں چنانچہ آپ کے خلاف مقدمے بنائے گئے ، ہر قسم کی جھوٹی گواہیاں پیش کی گئیں۔حکومت عیسائیوں کی تھی ، گواہیاں عیسائیوں کی تھیں، ان گواہیوں کو مضبوط کرنے والی کچھ اور گواہیاں بھی تھیں۔حالات سازگار نہیں تھے لیکن خدا اپنے وعدوں کا سچا ہے جیسا کہ اُس نے کہا تھا ویسا ہی اُس نے کر دکھایا کہ لوگ تیرے ساتھ نہیں ہوں گے لیکن میں تیرے ساتھ کھڑا ہوں گا اور تجھے دشمنوں کی ہر بد تد بیر سے بچاؤں گا۔اب یہ جو ڈوئی کا واقعہ ہے یا جو علمی لحاظ سے عیسائیوں کے ساتھ ہندوستان میں مناظرہ ہوا تھا اور اس سے اسلام کی برتری ثابت ہوئی یہ تو اسلام کی ساۃ ثانیہ سے تعلق رکھتی ہے۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام سے پہلے ہر صدی میں اسلام کے حق میں اسلام کے دشمنوں کے ساتھ بحث کرتے ہوئے اللہ تعالیٰ نے وقت وقت کے اولیاء کو اور حضرت محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر فدا ہونے والے اور آپ کے جاں نثاروں کو روحانی علوم سکھائے اور اُنہوں نے مخالف اسلام