خطباتِ ناصر (جلد 7 ۔1977ء، 1978ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 379 of 584

خطباتِ ناصر (جلد 7 ۔1977ء، 1978ء) — Page 379

خطبات ناصر جلد ہفتم خطبه جمعه ۲۶ مئی ۱۹۷۸ء حضرت مسیح موعود علیہ السلام چودھویں صدی کے مجدد اور مجددالف آخر بھی ہیں خطبه جمعه فرموده ۲۶ رمئی ۱۹۷۸ء بمقام فرینکفرٹ۔جرمنی (خلاصه خطبه ) b حضور کے فرینکفرٹ میں قیام کا تیسرا جمعہ تھا۔حضور ۲ بجے مقررہ وقت پر مسجد میں تشریف لائے۔مسلسل کام کرتے رہنے کی وجہ سے طبیعت میں ضعف تھا لیکن اس کے باوجود خدا تعالیٰ کے فضل سے آپ نے ایک نہایت بصیرت افروز خطبہ جمعہ ارشاد فرمایا جو پون گھنٹے تک جاری رہا۔آپ نے آیت کریمہ:۔هُوَ الَّذِي أَنْزَلَ عَلَيْكَ الْكِتَبَ مِنْهُ أَيتَ مُحْكَمْتَ هُنَّ أُمُّ الْكِتَبِ وَ أَخَرُ مُتَشْبِهُنَّ فَأَمَّا الَّذِينَ فِي قُلُوبِهِمْ زَيْغٌ فَيَتَّبِعُونَ مَا تَشَابَهَ مِنْهُ ابْتِغَاءَ الْفِتْنَةِ وَابْتِغَاءَ تَأْوِيلِهِ وَمَا يَعْلَمُ تَأْوِيلَة إِلا الله وَالرَّسِخُونَ فِي الْعِلْمِ يَقُولُونَ أَمَنَا بِهِ كُلٌّ مِّنْ عِنْدِ رَبَّنَا - (ال عمران : ۸) کی تشریح کرتے ہوئے تفصیل سے بتایا کہ محکمات سے الگ کر کے متشابہات کی پیروی وہی لوگ کرتے ہیں جن کا مقصد جماعت میں فتنہ پیدا کرنا ہوتا ہے ورنہ محکمات اصل اور متشابہات ان کی فرع ہوتی ہیں اور ان میں کوئی اختلاف اور تضاد نہیں ہوتا اگر کوئی بظاہر تقضا دلگتا بھی ہے تو وہ محکمات اور متشابہات کے باہمی تعلق کو نہ سمجھنے کی وجہ سے پیدا ہوتا ہے۔