خطباتِ ناصر (جلد 7 ۔1977ء، 1978ء) — Page 372
خطبہ جمعہ ۵ رمئی ۱۹۷۸ء خطبات ناصر جلد ہفتم ہوئے ہیں۔دو مختلف سورتوں میں یہ آیتیں ہیں اور ہر دو جگہ اس اعلان کے بعد کہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم عالمین کے لئے ، کائنات کے لئے رحمت بنا کر بھیجے گئے ہیں اور یہ کہ آپ کی رسالت كافةً لِلنَّاس کے لئے ہے یہودی اور عیسائی اور بدھ مذہب والے اور ہر قوم اور ہر علاقہ کے لوگ اور ہر زمانہ میں پیدا ہونے والے انسان، غرضیکہ آپ کی بعثت کے بعد سے قیامت تک کی ہر نسل آپ کی رسالت کے ماتحت ہے۔دونوں جگہ اس اعلان کے بعد آگے ایک وعدے کا ذکر ہے۔رَحْمَةٌ لِلْعَلَمِينَ کے بعد فرمایا کہ میں نہیں کہہ سکتا کہ جو وعدہ تم سے کیا گیا ہے وہ کب پورا ہوگا۔وَاِنْ اَدرِی ا قَرِيبٌ أَم بَعِيدٌ مَا تُوعَدُونَ (الانبیاء :۱۱۰) رسول بھی بشر ہوتا ہے اور رَحْمَةٌ لِلعلمین بھی بشر ہیں وہ اپنی طرف سے کچھ نہیں کہہ سکتے جب تک خدا تعالیٰ کی طرف سے علم نہ ہو کہ وہ وعدہ جس کا ذکر کیا گیا ہے کب پورا ہوگا اور جب كافة للناس کہا تو وہاں یہ بتایا کہ ترقیات کی پہلی تین صدیوں کے بعد جب ایک ہزار سال گذر جائے گا تو اس وعدہ کے پورا ہونے کا زمانہ آجائے گا یعنی چودھویں صدی سے اس وعدہ کے پورا ہونے کا زمانہ شروع ہوگا۔پس رَحْمَةٌ لِلْعَلَمِینَ اور كافة للناس میں ایک وعدہ ہے۔ویسے صرف نحو کے لحاظ سے وہاں وَ مَا اَرْسَلْنَكَ إِلَّا رَحْمَةً للعلمین اور وَمَا اَرْسَلْنَكَ إِلا كَافَةُ لِلنَّاسِ ہے یعنی منصوب ہے لیکن جب ہم اس کو الگ بولیں تو کہیں گے کہ آپ رَحْمَةُ لِلْعَلَمِينَ ہیں اور كَافَةً لِلنَّاس کی طرف آپ کی بعثت ہوئی۔ان آیات میں یہ وعدہ نہیں کہ آپ مبعوث تو ہوئے ہیں نوع انسانی کی طرف لیکن نوع انسانی کبھی بھی آپ کو قبول نہیں کرے گی۔یہ وعدہ نہیں ہے بلکہ وعدہ یہ ہے کہ نوع انسانی محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی رسالت کو قبول کرے گی اور سارے کے سارے انسان سوائے چند ایک استثناء کے محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے جھنڈے تلے جمع ہو جائیں گے۔جب وعدے کے پورا ہونے کا زمانہ بتایا گیا تو پہلی تین صدیوں کا ذکر چھوڑ دیا گیا کیونکہ پہلی تین صدیاں ترقیات کی صدیاں تھیں ان میں اسلام بڑھتا چلا جارہا تھا اسلام عرب میں کامیاب ہوا پھر عرب سے باہر نکلا پھر افریقہ کے براعظم پر چھا گیا ، صرف کامیاب ہی نہیں ہوا بلکہ چھا گیا، پھر وہاں سے نکلا اور ایک طرف سپین کے رستے سے یورپ میں داخل ہوا اور قریباً