خطباتِ ناصر (جلد 7 ۔1977ء، 1978ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 365 of 584

خطباتِ ناصر (جلد 7 ۔1977ء، 1978ء) — Page 365

خطبات ناصر جلد ہفتم کر کے جیتا جاتا ہے۔۳۶۵ خطبه جمعه ۱/۲۸ پریل ۱۹۷۸ء ہم تو ایک غریب جماعت ہیں اور ایک مسکین جماعت ہیں اور ایک عاجز جماعت ہیں اور ایک ایسی جماعت ہیں جس کو اقتدار حاصل نہیں اور ایک ایسی جماعت ہیں جس کو اقتدار سے کوئی دلچسپی نہیں ، ایک ایسی جماعت ہیں جو مالی لحاظ سے غریب ہے اور ایک ایسی جماعت ہیں جس کو اموال دنیا سے کوئی دلچسپی نہیں جہاں تک کہ مذہب کا سوال ہے، ایک ایسی جماعت ہیں جن کے دلوں میں اللہ تعالیٰ کی مہربانی اور فضل اور رحمت سے ایک آگ بھڑک رہی ہے۔لَعَلّكَ بَاخِعٌ نَفْسَكَ اَلا يَكُونُوا مُؤْمِنِينَ (الشعراء : ۴) جو ہمارے پیارے اور محبوب آقا محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی دلی کیفیت تھی اسی کیفیت کے مطابق ہم نے خدا تعالیٰ کا جو پیار اور اس کی جو نعمتیں محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے طفیل حاصل کیں وہ دنیا جو ان نعمتوں سے محروم ہے وہ بھی ہماری طرح ان نعمتوں کو حاصل کرنے والی ہو اور محمد صلی اللہ علیہ وسلم سے پیار اور محبت کا تعلق رکھنے والی ہو۔اسی لئے ہمارے بہت سے نوجوان اور کچھ بڑی عمر کے دوست بھی باہر گئے ہیں اور باہر جاتے ہیں اور تبلیغ کے کاموں میں مشغول ہیں اور یہی نہیں کہ پاکستان کے احمدی غیر ممالک میں تبلیغ کر رہے ہیں بلکہ غیر ممالک میں بھی خدا تعالیٰ کی راہ میں زندگیاں وقف کرنے والے لوگ پیدا ہو چکے ہیں۔ان میں سے بہت سے تو اس وقت اپنے اپنے ملکوں میں کام کر رہے ہیں لیکن بعض ایسے بھی ہیں جن کو خدا تعالیٰ دوسرے ممالک میں کام کرنے کی توفیق عطا کرتا ہے جیسا کہ عبدالوہاب بن آدم ہیں۔وہ احمدی ہوئے ، پھر انہوں نے وقف کیا ، پھر وہ یہاں آئے اور جامعہ احمدیہ میں شاہد کیا ، پھر وہ اپنے ملک غانا میں گئے اور پاکستانی امیر کے ماتحت انہوں نے وہاں تبلیغ کی پھر وہ انگلستان میں بھیجے گئے اور انگلستان جا کر اس افریقن نے جس کا دل اور سینہ نور سے بھرا ہوا تھا سفید فام باشندوں کو اسلام کی تبلیغ کی۔اللہ تعالیٰ نے اس کے دل کو بڑا ہی پیارا بنایا ہے۔وہ مسکراتے ہوئے اسلام کی خوبیاں دوسروں کے سامنے رکھتا تھا اور اب وہ اپنے ہی ملک میں واپس جا کر کام کر رہے ہیں اور ممکن ہے کہ ایک دو سال تک ان کو افریقہ کے کسی اور ملک میں یا امریکہ میں بھجوادیا جائے اور وہ وہاں جا کر کام کریں گے۔پس صرف ہمارا ہی ملک واقفین زندگی پیدا نہیں کر رہا بلکہ