خطباتِ ناصر (جلد 7 ۔1977ء، 1978ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 364 of 584

خطباتِ ناصر (جلد 7 ۔1977ء، 1978ء) — Page 364

خطبات ناصر جلد ہفتم ۳۶۴ خطبه جمعه ۱/۲۸ پریل ۱۹۷۸ء کہ خدا تعالیٰ نے جماعت کو ایسے نوجوان آدمی اور ایسے نوجوان دل دیئے ہیں کہ جو ان تکالیف کی پرواہ نہیں کرتے اور اشاعت اسلام کے لئے ہر دم اور ہر آن دنیا کے ہر علاقہ میں کوشاں ہیں۔صداقت اصولی طور پر اور بنیادی لحاظ سے کسی جبر اور طاقت کی محتاج نہیں ہے لیکن انسان پر ایک وقت ایسا بھی آیا کہ اس نے یہ سمجھا (اور اب بھی دنیا کے بعض خطوں میں بعض انسان یہ سمجھتے ہیں ) کہ طاقت کے بل بوتے پر صداقت کو دبایا جا سکتا یا مغلوب کیا جا سکتا ہے۔نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی زندگی میں ہی مادی طاقت نے اس نور کو بجھانے کی کوشش کی جس نے کہ اپنے وقت پر ساری دنیا کو اپنی نورانی شعاعوں کی لپیٹ میں لے لینا تھا۔وہ نور جو یورپ میں بھی پہنچا ، افریقہ کے صحراؤں میں بھی پہنچا، جزائر میں بھی پہنچا اور ایران سے نکلتا ہوا افغانستان کے اوپر کے حصوں سے ( جو کہ اب روس کے حصے بن گئے ہیں ) ہوتا ہوا اور بعض دوسرے راستوں سے گزر کر چین۔تک بھی پہنچا۔اس وقت کی قریباً ساری معروف دنیا تک وہ پہنچا۔اسلام کو جس وقت طاقت نہیں ملی تھی اس وقت اپنی کمزوری کی حالت میں بھی وہ اپنے نور کے ذریعہ سے دلوں کو جیتنے والا بنا اور جب ایک وقت میں اس کو طاقت مل گئی تب بھی اس نے دین کے معاملہ میں جبر اور زور اور طاقت سے کام نہیں لیا بلکہ جیسا کہ خدا تعالیٰ نے ہمیں اسلامی تعلیم میں بتایا ہے اس کے ماننے والوں نے محبت اور پیار کے ساتھ اور دلائل کے ساتھ اور حج قاطعہ کے ساتھ اور آسمانی نشانوں کے ساتھ اور بے لوث خدمت کے ساتھ اور غیر کی زندگی میں خدا تعالیٰ کی طاقتوں کے معجزے دکھا کر علاقوں کے علاقے اسلام کے لئے جیتے۔یہ اس وقت کی بات ہے جب دنیا اپنی جہالت اور لاعلمی کی وجہ سے صداقت کے مقابلہ میں طاقت کا استعمال صحیح اور درست سمجھتی تھی لیکن اب تو دنیا کو بھی یہ سمجھ آگئی ہے (الا ماشاء اللہ بعض علاقوں کو چھوڑ کر ) کہ مذہب کے معاملے میں جبر کا تصور نامعقول ہے کیونکہ مذہب کا تعلق دل سے ہے اور مادی طاقت دلوں پر حکومت نہیں کیا کرتی۔مادی طاقتوں کے بھی فائدے ہیں اسی لئے خدا تعالیٰ نے مادی طاقتوں کو بھی پیدا کیا ہے لیکن وہ فائدہ مذہب کا پھیلانا نہیں ہے۔کوئی طاقتور ہو یا کمزور اور مسکین ہو وہ دل جو اسلام سے نا آشنا ہیں ان کو خدمت خلق کے ذریعے اور اسلام کے حسن کے جلوے دکھا کر اور اس کے احسان کی قوتوں کا مظاہرہ