خطباتِ ناصر (جلد 7 ۔1977ء، 1978ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 336 of 584

خطباتِ ناصر (جلد 7 ۔1977ء، 1978ء) — Page 336

خطبات ناصر جلد ہفتہ خطبہ جمعہ ۱۷ مارچ ۱۹۷۸ء کے ساتھ ہے۔اس لئے ماننا پڑا کہ امت محمدیہ پر فرشتے اس دنیوی زندگی میں نازل ہوں گے چاہے وہ صرف مرنے کے بعد کی جنت کی بشارت دینے کے لئے آئیں تب بھی یہ اعتراض نہیں پڑسکتا کہ جب آپ اس دنیا کی جنت کو بھی جنت کہتے ہیں تو یہ بشارت پھر اس دنیا کی جنت کے اندر مل گئی۔اعتراض اس لئے بھی نہیں ہو سکتا کہ اس دنیا کی جنت اور اخروی دنیا کی جنت میں ایک بنیادی فرق ہے۔اس دنیا کی جنت میں جو گیا وہ باہر نہیں نکل سکتا کیونکہ وہ ابدی جنت ہے لیکن اس دنیا کی جنت کے ساتھ بہت سے ابتلا بھی لگے ہوئے ہیں۔بلعم باعور بننے کا بھی خطرہ رہتا ہے۔خدا تعالیٰ بعض لوگوں کو آسمان کی طرف اٹھا کر لے جانا چاہتا ہے لیکن وہ زمین کے اوپر گر جاتے ہیں۔اس لئے اس دنیا کی جنت میں ایک یقینی تسلسل نہیں بلکہ ہر آن سہارے کی ضرورت ہے۔اس جنت میں یہ تو بشارت ملے گی کہ کل کو تمہارے لئے ایک اور ترقی ہے لیکن جب جنت کی بشارت مل چکی یعنی جنت میں چلے گئے تو وہاں سے نکلنے کا کوئی خطرہ نہیں مگر اس دنیا کی جنت سے نکلنے کا بھی خطرہ ہے۔اس لئے بار بار بشارتیں ملتی ہیں اور تسلی ملتی ہے۔خدا تعالیٰ بار بار رحم کرنے والا ہے۔وہ تو اب ہے اس دنیا کی لغزشوں پر جب انسان نادم ہوتا ہے اور توبہ واستغفار کرتا ہے تو وہ بار بار تو بہ کو قبول کرنے والا ہے لیکن اس قسم کی لغزش یا اس قسم کی پریشانی کا احساس یا اس قسم کی تو بہ واستغفار جو اس دنیا کے ساتھ تعلق رکھتی ہے اخروی جنت میں ان چیزوں کا کوئی تصور نہیں ہے۔دراصل اس دنیا میں متواتر جنت کی بشارت ملتے رہنا اطمینان قلب کے لئے ضروری ہے اس لئے حضرت ابراہیم علیہ السلام کو بھی یہ کہنا پڑا تھا کہ اس لئے پوچھ رہا ہوں لِيَطْمَئِنَّ قَلْبِي (البقرة: ۲۶۱) تا کہ میرے دل کو اور اطمینان حاصل ہو۔پس جو آدمی اس جنت میں چلا گیا جس میں سے نکلنے کا امکان ہی نہیں اس کا اطمینان اس بات میں تو ہو گیا کہ ایک ایسی جنت مل گئی جس کے اندر کوئی شبہ نہیں۔قرآن کریم اور احادیث سے پتا لگتا ہے کہ جو مرنے کے بعد کی زندگی ہے وہ اس پانی کی طرح نہیں جو ایک جگہ پھنس جاتا ہے نشیب کے اندر اور اس میں بد بو اور تعفن پیدا ہو جاتا ہے بلکہ اس دنیا کی حرکت اور عمل کی جو زندگی ہے اس سے کہیں زیادہ حرکت ہے اور ایک عمل ہے اور ایک فعل ہے اس دنیا کی جنت میں لیکن وہ جنت کے اندر کا ہے۔حضرت نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے