خطباتِ ناصر (جلد 7 ۔1977ء، 1978ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 330 of 584

خطباتِ ناصر (جلد 7 ۔1977ء، 1978ء) — Page 330

خطبات ناصر جلد ہفتہ ۳۳۰ خطبه جمعه ۱۰/ مارچ ۱۹۷۸ء نے اپنے ماننے والوں کو نہ بخشی تھی۔جو نبی پہلے آئے وہ انسان کو انسانِ کامل کا عکس بنانے کے قابل نہ تھے مگر جب انسان کامل آیا اور اس نے زندہ کیا تو جنہوں نے اس کے اُسوہ کی پیروی کی اور اس کی لائی ہوئی ہدایت پر عمل کیا اور اپنی زندگی کو اس نور سے منور کیا تو اپنی اپنی صلاحیت اور استعداد کے مطابق ان میں بھی انسان کامل کی شبیہ پیدا ہو گئی۔یہ زندگی جو انسان محمد صلی اللہ علیہ وسلم سے حاصل کرتا ہے طہارت اور پاکیزگی کی بنیادوں پر قائم ہے۔قرآن کریم کی ساری تعلیم ہی انسان کو پاک اور مطہر بناتی ہے اور اصولی طور پر یہ تعلیم انسان کو پاک دل بناتی ہے، پاک زبان بناتی اور پاک اعمال بناتی ہے اور خدا تعالیٰ کی نگاہ میں عزت کے حصول کے لئے ان تینوں قسم کی پاکیزگیوں کی ضرورت ہے یعنی دل بھی پاک ہو زبان بھی پاک ہو اور انسان کے اعمال بھی صالح اور پاک ہوں اور انہی چیزوں کی تعلیم محمد صلی اللہ علیہ وسلم نے انسان کو دی۔جب یہ تینوں طہارتیں اکٹھی ہو جائیں تو وہ جو تمام عرب توں کا سرچشمہ ہے إِنَّ الْعِزَّةَ لِلَّهِ جَمِيعًا (يونس: ۶۶) اس سے انسان عزت حاصل کرتا ہے کیونکہ وہ پاک ہے اور جب انسان کو پاکیزگی مل جائے تو اس کی نگاہ میں انسان معزز بن جاتا ہے اور اس عزبات میں جو کہ محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ذریعہ سے حاصل کی جاسکتی ہے اور اس عزت میں جو محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے ذریعہ سے نہیں بلکہ دنیا کے دوسرے ذرائع سے حاصل کی جاسکتی ہے زمین اور آسمان کا فرق ہے۔دنیا کی کوئی عزت بھی انسان سے وفا نہیں کرتی۔اس زندگی میں بھی نہیں کرتی اور مرنے کے بعد تو بہر حال و فانہیں کرتی لیکن جس عزت کا سامان محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی اُمت کے لئے کیا ہے اس پر کبھی زوال نہیں۔وہ ابدی عزت ہے، اس دنیا میں بھی عزت اور مرنے کے بعد بھی عربات اور فرد کے لئے بھی عزت اور نوع انسانی کے لئے بھی عزت۔اتباع محمد صلی اللہ علیہ وسلم سے باہر جو زندگی ہے اس میں سے تو اس طرح بد بو آتی ہے جس طرح مردہ لاشے سے ہمیں تعفن کی بدبو آتی ہے اور ہمیں سے میری مراد انسان ہیں۔کہتے ہیں کہ ہم ترقی کر گئے ہیں لیکن چین کسی کو نصیب نہیں ہے۔کبھی طاقت کے ڈراوے ہیں کبھی ایٹم بم اور ہائیڈ روجن بم کے اشارے ہیں، کبھی دنیوی ذرائع سے حاصل کردہ اموال کی نمائش ہے،