خطباتِ ناصر (جلد 7 ۔1977ء، 1978ء) — Page 329
خطبات ناصر جلد ہفتم ۳۲۹ خطبہ جمعہ ۱۰ / مارچ ۱۹۷۸ء حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کا وجود زندگی بخش ہے خطبه جمعه فرمود ه ۱۰ مارچ ۱۹۷۸ء بمقام مسجد اقصیٰ۔ربوہ تشہد وتعوذ اور سورۃ فاتحہ کی تلاوت کے بعد حضور انور نے فرمایا:۔قرآن عظیم چھوٹی چھوٹی بہت واضح مثالیں دے کر بڑے وسیع اور گہرے مطالب بیان کر جاتا ہے۔قرآن کریم میں آیا ہے کہ اندھا اور آنکھوں والا برابر نہیں ہو سکتے۔ایک کو کچھ نظر ہی نہیں آرہا اور دوسرا انسان کو جو دیکھنے کی طاقت دی گئی ہے اس کے مطابق سب کچھ دیکھتا ہے۔اندھیرا اور نور برابر نہیں ہو سکتے۔اندھیرا ہو تو آنکھیں بھی کام نہیں کرتیں اور آنکھیں ہوں تو نور کی ضرورت رہتی ہے۔سایہ اور دھوپ کی تپش برابر نہیں ہو سکتے۔ایک راحت بخش سایہ ہے اور دوسری تمازت دینے والی دھوپ ہے جس سے آدمی گھبراتا ہے اور اس کا جسم اس سے تکلیف اٹھاتا ہے۔پھر فرمایا مردہ اور زندہ برابر نہیں ہو سکتے۔ایک بے جان لا شہ ہے اور دوسرا ز ندگی رکھنے والا وجود ہے جو دنیوی لحاظ سے ستاروں پر بھی کمند ڈالتا ہے اور روحانی لحاظ سے اپنے ربّ کریم کے قرب کی راہوں کو تلاش کر کے اس وصال کو حاصل کرتا ہے۔پس زندہ اور مردہ برابر نہیں ہو سکتے۔دوسری جگہ فرمایا کہ محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تمہیں اس لئے بلاتے ہیں کہ تمہیں زندہ کریں۔آپ کا وجود زندگی بخش ہے اور زندگی بھی آپ نے وہ بخشی کہ جو آپ سے پہلے کسی نبی