خطباتِ ناصر (جلد 7 ۔1977ء، 1978ء) — Page 18
خطبات ناصر جلد ہفتم ۱۸ خطبہ جمعہ ۲۱؍ جنوری ۱۹۷۷ء اس قسم کی زندگی اپنی تاریخ میں کبھی نہیں دیکھی۔لیکن چونکہ محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا زمانہ قیامت تک ممتد ہے اس لئے آپ کے بعد جو خدا تعالیٰ اور محمد صلی اللہ علیہ وسلم سے پیار کرنے والے آئے ان کے ذریعے بھی اللہ تعالیٰ نے محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی قوت قدسیہ کے نتیجہ میں اور آپ کی دعاؤں کو قبول کرتے ہوئے ملک ملک اور قریہ قریہ میں اسی قسم کے انقلاب بپاکئے۔پس ہمارا تو کل اور ہمارا بھروسہ اور ہماری طاقت کس چیز میں ہے ( طاقت کے ساتھ میں کہتا ہوں کہ جسمانی طاقت نہیں ہے )۔ہمارا بھروسہ اللہ پر ہے اور ہمارا تو کل اللہ پر ہے اور ہماری طاقت ان دعاؤں میں لیٹی ہوئی ہے جو ہم عاجزی کے ساتھ اور انتہائی تضرع اور ابتہال کے ساتھ اپنے رب کے حضور کرتے ہیں اور پھر وہ اپنے فضل سے ان کو قبول کر لیتا ہے۔انسان کی زندگی میں ، قوموں کی زندگی میں اور ملکوں کی زندگی میں بعض ایسے دن آتے ہیں کہ جب انہیں دعاؤں کی زیادہ ضرورت ہوتی ہے اور میں سمجھتا ہوں کہ ہر قوم اور ہر ملک جہاں انتخابات ہونے کا زمانہ آجائے تو ان کا وہ زمانہ بڑا نازک زمانہ ہوتا ہے اور اس زمانہ میں ایسے ملک کو ان دعاؤں کی ضرورت ہوتی ہے جو دعائیں کہ دعا پر یقین رکھنے والے گروہ کرتے ہیں۔پس اب جبکہ انتخابات کا اعلان ہو چکا ہے جماعت احمدیہ کے افراد کا یہ فرض ہے کہ وہ یہ دعائیں کریں کہ اللہ تعالیٰ اس نازک دور میں جو انتخاب کا دور ہے ایسے سامان پیدا کرے کہ اس کے نتائج ملک اور قوم کے لئے مفید نکلیں اور وہی جانتا ہے کہ قوم اور ملک کے لئے کون سے نتائج مفید ہو سکتے ہیں۔ہم اس کے عاجز بندے تو دو گھڑی بعد کی بھی خبر نہیں رکھتے ، دو سیکنڈ بعد کی بھی خبر نہیں رکھتے لیکن وہ تو عَلَامُ الْغُيُوبِ ہے اس لئے بغیر کسی قسم کے تعصب اور غصہ کے، خالی الذہن ہوکر اور اس پیار میں شدت پیدا کر کے جو ہمارے دلوں میں اپنے ملک اور قوم کے لئے ہے ہمیں یہ دعا کرنی چاہیے کہ اے خدا! انتخابات کا یہ زمانہ ہے انتخابات کے نتائج کو قوم کے لئے اور ملک کے لئے اور ہمارے لئے مفید بنا اور فتنہ اور فساد اور تنزل سے ہماری زندگیوں کو ( ہم بھی قوم کا ایک حصہ ہیں ) اور ہماری قوم کو اور ملک کو محفوظ رکھ۔خدا کرے کہ ہمیں ایسی دعاؤں کی توفیق بھی ملے اور اللہ کرے کہ وہ اس قسم کی توفیق ہو کہ