خطباتِ ناصر (جلد 7 ۔1977ء، 1978ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 296 of 584

خطباتِ ناصر (جلد 7 ۔1977ء، 1978ء) — Page 296

خطبات ناصر جلد ہفتہ ۲۹۶ خطبہ جمعہ ۹؍ دسمبر ۱۹۷۷ء ہے کہ آنے والے محلات کا مطالبہ نہیں کرتے ان کو تو اگر آپ حسب ضرورت ایک غسل خانہ بھی خالی کر دیتے ہیں تو وہ بڑے ممنون ہوتے ہیں۔وہ پہلے خدا تعالیٰ کا شکر ادا کرتے ہیں اور اس کی حمد کرتے ہیں کہ اس نے ان کے لئے یہ سامان پیدا کر دیا اور پھر اس کے بندوں کے شکر گزار ہوتے ہیں جنہوں نے ان کی اعانت کی اور ان کے لئے سامان پیدا کیا۔پس چھوٹا کمرہ یا بڑا کمرہ جو بھی آپ جلسہ سالانہ کے انتظام کو دے سکتے ہوں ضرور دیں تا کہ جماعت احمد یہ کا معاشرہ کہ سارے انسان ایک معاشرہ میں ایک ہی ماحول میں برابر کے انسان بن کر رہیں قائم ہو اور گوہ قلبی طور پر تو رہتے ہیں لیکن جلسہ سالانہ کے موقع پر اس کا عملی مظاہرہ ہو جائے۔دوسری بات جو میں کہنا چاہتا ہوں اور سینکڑوں دفعہ پہلے کہہ چکا ہوں اور جب تک زندہ ہوں کہتا چلا جاؤں گا وہ یہ ہے کہ ہمارا بھروسہ صرف اللہ تعالیٰ کی مدد اور نصرت اور اس کے پیار اور اپنے حق میں اس کی قدرتوں کے ظاہر ہونے پر ہے اور اس کے فضل اور اس کی رحمت کو جذب کرنے کے لئے سوائے دعا کے اور کوئی ذریعہ نہیں ہے۔وہ عاجزانہ دعا جوانسان کے دل سے اس وقت نکلتی ہے جب وہ اپنی معرفت حاصل کرتا ہے کہ میں کیا چیز ہوں ایک ناکارہ انسان ،ایک کمزور انسان ، ایک کم طاقت انسان ہر لحاظ سے ناتواں انسان اور پھر اپنی ساری کمزوریوں کو محسوس کرتے ہوئے وہ اس کے آگے جھکتا ہے جو سب طاقتوں کا مالک ہے اور اس سے کہتا ہے کہ میں جو ہوں وہ میں جانتا ہوں مگر اے ہمارے رب جو تو ہے وہ بھی میں جانتا ہوں کہ تیرے آگے کوئی چیز انہونی نہیں ہے۔پس تو ہمارے لئے سہولت کے اور آرام کے اور خوشی کے اور خوشحالی کے سامان پیدا کر دے۔اتنا بڑا جلسہ ہے اور اس قسم کی غریب جماعت ہر سال اس میں سے گزرتی ہے لیکن وہ اپنی کسی خوبی یا اپنی کسی تدبیر کے نتیجہ میں اس میں سے کامیابی سے نہیں گزرتی بلکہ یہ محض اللہ تعالیٰ کا فضل اور اس کی رحمت ہے کہ ہمارا ہر جلسہ ہی پہلے سے زیادہ شان کے ساتھ آتا ہے اور خدا تعالیٰ کے فضلوں کو پہلے سے زیادہ لے کر آتا ہے اور آسمان سے خدا تعالیٰ کی رحمتیں ہر لحاظ سے پہلے سے زیادہ برس رہی ہوتی ہیں، نئی نسل خدا تعالیٰ کی رحمتوں سے حصہ لے رہی ہوتی ہے، نئے احمدی