خطباتِ ناصر (جلد 7 ۔1977ء، 1978ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 15 of 584

خطباتِ ناصر (جلد 7 ۔1977ء، 1978ء) — Page 15

خطبات ناصر جلد ہفتہ ۱۵ خطبہ جمعہ ۲۱؍ جنوری ۱۹۷۷ء جو مانتے ہیں جیسا کہ میں نے بتایا ہے وہ مختلف گروہوں میں بٹ گئے اور اُمت مسلمہ میں ایک حصہ ایسا پیدا ہو گیا جس نے کہا کہ دعا سے ثواب تو ملتا ہے لیکن وہ دعا کی قبولیت کے اس معنی میں قائل نہیں ہیں کہ مثلاً یہ دعا کی جائے کہ کوئی عزیز بیمار ہے، اللہ تعالیٰ فضل کرے اور اس کو صحت دے بلکہ وہ کہتے ہیں کہ قضا و قدر ہے اگر اس کی صحت مقدر ہے تو ہو جائے گی لیکن دعا کے نتیجہ میں نہیں ہوگی اور اگر اس نے مرنا ہے تو مر جائے گا دعا اس کو فائدہ نہیں دے سکتی۔ہمیں حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے قضا و قدر کے متعلق صحیح مفہوم سکھایا ہے۔اس لئے ہم یہ نہیں مانتے بلکہ ہمارا عقیدہ یہ ہے کہ یہ تو درست ہے کہ انسان کے ساتھ خیر بھی اور شر بھی لگی ہوئی ہے لیکن یہ درست ہونے کے باوجود ہم عقیدہ یہ رکھتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے قضا وقدر کو اسباب کے ساتھ وابستہ کر دیا ہے۔یہ ہے قضا و قدر۔یہ نہیں کہ اگر مقدر ہے تو تمہارا پیٹ بھر جائے گا روٹی کھاؤ یا نہ کھاؤ۔اگر مقدر ہے تو تمہاری پیاس بجھ جائے گی پانی پیویا نہ پیو۔اگر مقدر میں نہیں تو روٹی کھاؤ گے تب بھی بھوک لگی رہے گی ، پانی پیئو گے تب بھی پیاس لگی رہے گی۔اگر مقدر ہے تو بیمار اچھا ہو جائے گا دوائی کے اثر کا کوئی سوال ہی نہیں پیدا ہوتا اور اگر مقدر نہیں ہے تو آدمی مرجائے گا پھر بھی دوائی کا کوئی فائدہ نہیں۔اس قسم کی تقدیر کے ہم قائل نہیں۔جولوگ قضا و قدر کو غلط معنی میں لیتے ہیں ان کو بھی یہاں پر آ کے سمجھ نہیں آتی کہ وہ کیا جواب دیں کیونکہ جہاں تک ظاہری اسباب کا سوال ہے وہ انکار نہیں کر سکتے۔وہ یہ تو مانتے ہیں کہ قضا و قدر کے باوجود دوا میں اثر ہے، وہ یہ تو مانتے ہیں کہ قضا و قدر کے باوجود اغذیہ میں کھانے کی چیزوں میں یہ اثر ہے کہ وہ ہماری ضرورتوں کو پورا کرتی ہیں۔محض قضا و قدر کا جو مسئلہ انہوں نے بنایا ہے اس کے نتیجہ میں پیٹ نہیں بھرا کرتے۔یہ نہیں کہ جی اگر مقدر ہوگا تو بغیر کھانے کے پیٹ بھر جائے گا اور اگر مقدر نہیں ہوگا تو کھانے کے باوجود پیٹ نہیں بھرے گا۔یہ تو نہیں۔اس کا اس کے ساتھ کوئی تعلق نہیں۔یہ خدا کی تقدیر ہے لیکن قضا و قدر کے باوجود وہ یہ نہیں مانتے کہ اگر مقدر ہے تو دوا کے ساتھ مریض اچھا ہو جائے گا اور اگر مقدر نہیں ہے تو اس کو دوا ہی میسر نہیں آئے گی بلکہ ان کی بھول بھلیاں ہیں وہ صحیح راستے پر نہیں آتے۔