خطباتِ ناصر (جلد 7 ۔1977ء، 1978ء) — Page 14
خطبات ناصر جلد ہفتم ۱۴ خطبہ جمعہ ۲۱؍ جنوری ۱۹۷۷ء کی طاقت میں یہ نہیں کہ وہ دعا کے ذریعے اس کے فضلوں اور اس کی عنایات کو جذب کر سکے۔اس گروہ کا اثر یا اس خیال کا اثر یہودیوں سے باہر بھی نکلا اور بہت سے عیسائی بھی ایسے خدا کے قائل ہو گئے جو دعاؤں کو نہیں سنتا۔اس قسم کی باتیں بعض لوگ کہہ دیتے ہیں کہ انسان کوئی اتنا اہم تو نہیں ہے کہ وہ خدا تعالیٰ سے دعائیں کرے اور اس کی دعائیں قبول ہو جائیں۔یہ تو درست ہے کہ انسان لاشے محض ہے لیکن اگر خدا نے اس کو اپنے قرب کے لئے پیدا کیا ہے تو قُرب کے دروازے کھولنے کے لئے ہمارے نزدیک ایک بڑا ذریعہ اس نے دعا کا بھی رکھا ہے۔بہر حال عیسائیوں میں بھی اس قسم کے لوگ پیدا ہوئے جو یہ عقیدہ رکھتے ہیں کہ خدا تعالیٰ انسان سے ذاتی تعلق نہیں رکھتا اس لئے دعا کرنا یا نہ کرنا برابر ہے اس سے کوئی فرق نہیں پڑتا۔ممکن ہے کہ مسلمانوں میں سے بھی کچھ ایسے لوگ ہوں لیکن مجھے ان کے متعلق کوئی خاص علم نہیں۔اگر کوئی ہو گا تو اکا دُکا ہو گا کہ جو ان کے زیر اثر اس قسم کا خیال رکھتا ہو۔لیکن ایک بڑا گروہ اسلام میں ایسا پیدا ہو گیا جس نے قانونِ قدرت یا قضاوقدر کی تفسیر اور اس کے معنے ایسے کر دیئے کہ جس سے وہ دعا کے اس معنی میں قائل نہیں رہے کہ انسان دعا کرے اور اللہ تعالیٰ اس کی دعاؤں کو سنے اور وہ متصرف بالا رادہ ہستی اپنی ظاہری قضا و قدر میں تبدیلیاں پیدا کرے بلکہ وہ یہ سمجھتے ہیں کہ دعا بھی دیگر عبادات کی طرح محض ایک عبادت ہے اور اس کی قبولیت کے اس سے زیادہ معنی نہیں ہیں کہ دعا کرنے والے کو دوسری دنیا میں یا اس دنیا میں کوئی ثواب مل جائے۔یہ نہیں کہ دعا اس معنی میں قبول ہوگی کہ جو مقصد ہے جسے دعا کرنے والا حاصل کرنا چاہتا ہے، عاجزی اور انکساری کے ساتھ اور دعا کی شرائط کے ساتھ وہ مقصد ا سے حاصل ہو جائے۔اس قسم کے غلط معنی کرنے کے نتیجہ میں وہ مذہب جو نوع انسانی ایک زندہ اور پختہ تعلق اپنے ربّ سے پیدا کرنا چاہتا تھا اسی کے ماننے والوں نے یہ دروازہ مسلمانوں پر بند کر دیا یعنی ان پر جوان کے ہم خیال تھے لیکن ہمارا یہ مذہب نہیں ہے۔دہر یہ بھی دعا کے اور اس معنی میں دعا کے کہ اس سے کوئی مقصد حاصل کیا جاسکتا ہے اور جو چیز مانگی جائے وہ مل سکتی ہے، قائل نہیں ہیں۔وہ یہ عقیدہ ہی نہیں رکھتے وہ خدا کو ہی نہیں مانتے اور