خطباتِ ناصر (جلد 7 ۔1977ء، 1978ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 263 of 584

خطباتِ ناصر (جلد 7 ۔1977ء، 1978ء) — Page 263

خطبات ناصر جلد ہفتم ۲۶۳ خطبہ جمعہ ۲۸/اکتوبر ۱۹۷۷ء سے کہا گیا کہ جو غیر لازمی چندے ہیں یا نیم لازمی چندے ہیں وہ بھی دو۔حضرت مصلح موعود رضی اللہ عنہ نے تحریک جدید کا آغاز کر دیا اور اس کے لئے لازمی چندوں کے لئے مالی قربانی کی تحریک فرمائی جولا زمی چندوں کے علاوہ تھی یعنی جو لازمی چندہ جات تھے مثلاً چندہ عام ہے۔چندہ وصیت ہے۔یہ اصل اور لازمی چندہ جات ہیں لیکن بعض دوسرے چندے بھی ہیں جن کے متعلق جماعت نے فیصلہ کیا ہوا ہے اور وہ بھی گو یا لازمی چندے ہیں۔ان کے علاوہ جماعت نے نہایت بشاشت سے تحریک جدید کے چندے دینے شروع کر دیئے۔۱۹۳۴ء کی بات ہے۔اس وقت بھی کئی ایک دوستوں نے کہا اور کئی اب بھی مجھے لکھ دیتے ہیں کہ سارے چندوں کو اکٹھا کر کے ایک مڈ کے اندر لے آئیں۔ایسے لوگوں کے لئے میں دعا کرتا ہوں۔وہ ان مختلف چندوں کی روح کو نہیں پہچانتے۔ہمارا ہر قدم پہلے سے آگے بڑھنا چاہیے۔ایک جگہ کھڑے ہوئے اور ہلاک ہوئے۔یہ الہی سلسلوں کا اصول ہے، الہی سلسلوں پر جتنے بھی تنزل کے زمانے آتے ہیں وہ کھڑے ہو کر ہی آئے ہیں۔ایک جگہ کھڑے ہو جانا تو الہی سلسلہ کے لئے موت کے مترادف ہے۔اسی لئے یہ الہی جماعت دعاؤں کے نتیجہ میں کوشش اور تدبیر کے ذریعہ ہر سال پہلے سے آگے بڑھنے کی کوشش کر رہی ہوتی ہے۔خدا تعالیٰ نے جب تبلیغ اسلام کا یہ بہت بڑا منصوبہ حضرت مصلح موعودرضی اللہ عنہ کے دماغ میں ڈالا تھا تو اس وقت حال یہ تھا کہ گو غیر ممالک میں پہلے بھی کچھ مبلغ گئے ہوئے تھے لیکن جتنے مبلغ تحریک جدید کے اس وسیع اور عظیم الشان منصوبہ کے ماتحت بھجوائے جاتے ہیں اتنے مبلغ باہر جانے شروع نہیں ہوئے تھے۔اس وقت بیرون ملک نئے نئے احمدیوں کا وہی حال تھا جو شروع میں حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی بیعت کرنے والوں کا تھا۔بیرونی ممالک میں قبولِ اسلام کرنے والوں کی ابھی کما حقہ تربیت نہیں ہو پائی تھی۔صرف اتنا ہوسکا تھا کہ وہ پہلے بے نماز تھے اب انہوں نے نمازیں پڑھنی شروع کر دیں یا وہ لوگ جو پہلے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو برا بھلا کہتے تھے اب انہوں نے آپ پر درود پڑھنا شروع کر دیا۔بت پرستوں میں سے مسلمان ہوئے تو انہوں نے لا اله الا اللہ کا نعرہ بلند کر دیا لیکن مالی قربانیوں کی طرف نہ وہ آئے تھے اور نہ ان