خطباتِ ناصر (جلد 7 ۔1977ء، 1978ء) — Page 257
خطبات ناصر جلد ہفتم ۲۵۷ خطبہ جمعہ ۲۸/اکتوبر ۱۹۷۷ء چیزیں بعض انسانوں کے موافق آئیں گی بعض کے موافق نہیں آئیں گی اس لئے صرف حلال ہی نہیں طبیب کھایا کرو۔تم یہ دیکھا کرو کہ تمہیں کون سی چیز موافق ہے، وہ کون سا کھانا ہے جو تمہاری طاقت کو قائم رکھنے والا ہے اور جس کے نتیجہ میں تم اپنی ذمہ داریوں کو اچھی طرح نباہ سکتے ہو۔آج کی دنیا بڑا فخر کرتی ہے اور لوگ سمجھتے ہیں کہ غذا میں توازن (Balance) کا اصول انہوں نے معلوم کیا ہے حالانکہ قرآن کریم نے یہ پہلے ہی بتا دیا تھا کہ خدا تعالیٰ نے ہر چیز میں توازن کا اصول قائم کیا ہے اس لئے فرما یا :۔الا تَطْغَوا في الميزان (الرحمن: ۹) فرمایا یہ خیال رکھنا کہ کسی شعبہ زندگی میں بھی اس توازن کے اصول کی خلاف ورزی سرزد نہ ہو کیونکہ اس سے تمہیں تکلیف پہنچے گی۔غرض انسان کی جسمانی طاقتوں کی حفاظت کے لئے اور ان کی صحیح اور کامل نشو و نما کے لئے جس ہدایت کی ضرورت تھی وہ انسان کو دے دی گئی ہے۔اسی طرح اللہ تعالیٰ نے انسان کو ذہنی قوتیں بھی عطا کی ہیں۔خدا تعالیٰ نے انسان کو یہ طاقت دی ہے کہ وہ علم حاصل کرتا ہے اور علم کے میدانوں میں ترقیات کرتا ہے۔وہ اپنی انفرادی زندگی میں بھی اور اجتماعی زندگی میں بھی انقلاب ہائے عظیم پیدا کرتا رہا ہے۔پس اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ صرف یہی نہیں کہ انسان کو ذہنی قو تیں دی گئی ہیں بلکہ اس کو بے راہ روی اور بھٹکنے سے بچانے کے لئے بھی اسے تعلیم دی گئی ہے اور وہ راہیں بھی بتادی گئی ہیں جن پر چل کر وہ حقائق اشیاء تک پہنچ سکتا ہے۔چنانچہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے ذریعہ ہمیں یہ دعا بھی سکھلائی گئی ہے۔رَبِّ أَرِنِي حَقَائِقَ الْأَشْيَاءِ کہ اے میرے رب ! مجھے حقائق اشیاء معلوم کرنے کی توفیق عطا فرما۔بعض دفعہ احمدی نوجوان طالب علم مجھ سے ملنے کے لئے آتے ہیں تو میں ان سے کہا کرتا ہوں کہ دیکھو قرآن کریم نے ہر علم کے متعلق بنیادی اصول بتا دیئے ہیں اب یہ ہمارا کام ہے کہ ہم ہر علم کی حقیقت معلوم کرنے کی کوشش کریں۔ایک دفعہ حساب کے ایم ایس سی کے احمدی طلباء کا ایک گروپ ملاقات کے لئے آیا۔میں نے ان سے کہا تم حساب کی اعلیٰ تعلیم حاصل کر رہے ہو لیکن کیا تمہیں معلوم ہے حساب کے ماہرین نے یہ کہا ہے کہ حساب کی بنیاد چند