خطباتِ ناصر (جلد 7 ۔1977ء، 1978ء) — Page 235
خطبات ناصر جلد ہفتم ۲۳۵ خطبہ جمعہ ۱۴ /اکتوبر۱۹۷۷ء ہے کہ بنیادی طور پر مذہبی آزادی تو ہے لیکن حقیقی کامیابی اسی میں ہے کہ انسان خدا اور اس کے رسول پر ایمان لا کر اعمال صالحہ بجالائے جیسا کہ میں پہلے بتا چکا ہوں۔مذہبی آزادی کے بارہ میں اس وقت میں صرف دو آیات کی تشریح کروں گا۔پہلی تو سورۃ کہف کی آیت ہے جس کے متعلق میں مختصراً بتا چکا ہوں۔اب میں دوسری آیت کو لیتا ہوں اور وہ سورۃ یونس کی یہ آیت ہے:۔قُلْ يَايُّهَا النَّاسُ قَدْ جَاءَكُمُ الْحَقُّ مِنْ رَّبِّكُمْ فَمَنِ اهْتَدَى فَإِنَّمَا يَهْتَدِي لِنَفْسِهِ وَ مَنْ ضَلَّ فَإِنَّمَا يَضِلُّ عَلَيْهَا ۚ وَمَا أَنَا عَلَيْكُمْ بِوَكِيلٍ (یونس : ١٠٩) اے رسول! لوگوں سے کہہ دو کہ تمہارے رب کی طرف سے ایک کامل صداقت نازل ہوگئی ہے۔چونکہ پہلے مخاطب محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہی ہیں اور پھر آپ کے متبعین ہیں، قرآن کریم کی ہدایت چونکہ قیامت تک ہے اس لئے یہ حکم آپ کی وساطت سے آپ کے متبعین اور پھر سب انسانوں کو قیامت تک کے لئے ملا ہے فرما یا :۔قَدْ جَاءَكُمُ الْحَقُّ مِن رَّبِّكُم تمہارے رب کی طرف سے ایک کامل صداقت نازل ہو گئی ہے۔فَمَنِ اهْتَدی اب جو شخص اپنی مرضی سے اس کی بتائی ہوئی ہدایت کو اختیار کرتا ہے فائما يَهْتَدِى لِنَفْسِه تو وہ اپنی جان کے فائدہ ہی کے لئے ہدایت کو اختیار کرتا ہے۔گویا انسان کو اس بات کی آزادی ہے کہ مرضی ہو تو ہدایت کو اختیار کرلے اور اگر وہ اختیار نہ کرنا چاہے تو اس پر خدا اور اس کے رسول کی طرف سے کوئی جبر نہیں البتہ وَ مَنْ ضَلَّ فَإِنَّمَا يَضِلُّ عَلَيْهَا جوشخص اس راه سے بھٹک جائے تو اس کے بھٹکنے کا وبال اسی کی جان پر ہے اس لئے ہر انسان کا یہ فرض ہے کہ وہ خوب سوچ لے اور پھر کوئی فیصلہ کرے۔غرض خدا تعالیٰ نے محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی زبان سے یہ اعلان کروایا کہ اے لوگو تمہیں مذہبی طور پر آزادی ہے۔تم نے اپنا فیصلہ خود کرنا ہے کہ ہدایت کی راہ پر چلنا ہے یا گمراہی کو اختیار کرنا ہے۔میں تمہارا ذمہ دار نہیں ہوں، میں تمہارا وکیل نہیں ہوں ، میرے اوپر تمہاری کوئی ذمہ داری نہیں ہے۔