خطباتِ ناصر (جلد 7 ۔1977ء، 1978ء) — Page 232
خطبات ناصر جلد ہفتم ۲۳۲ خطبہ جمعہ ۱۴ /اکتوبر۱۹۷۷ء ہیں۔یہ ایک الگ مضمون ہے اس کی طرف صرف اشارہ ہی کیا جاسکتا ہے۔ہماری دعا ہے کہ ہمارے مرنے کے بعد خدا تعالیٰ اپنے فضل سے ہم سب کو رضائے الہی کی جنتوں میں لے جائے۔جنت میں امتحان تو نہیں ہوگا لیکن وہ زندگی بے عملی کی پھیکی اور روکھی سوکھی زندگی نہیں ہے کہ گویا وہاں انسان نے کرنا ہی کچھ نہیں بلکہ وہاں بھی ایک عمل ہے اور وہاں بھی ترقیات کے دروازے ہیں اور وہاں بھی آگے بڑھنا ہے اور خدا تعالیٰ کے زیادہ سے زیادہ انعام کو پانا اور اس کے قریب سے قریب تر ہوتے چلے جانا ہے۔پس جب ہم اس کائنات پر نظر ڈالتے ہیں اور قرآن کریم کی تعلیم کی روشنی میں غور کرتے ہیں تو یہ شکل سامنے آتی ہے اور اس سے یہ لازمی نتیجہ نکلتا ہے کہ ہر انسان آزاد ہے اپنے اعتقاد میں بھی اور آزاد ہے اپنے عمل میں بھی۔وہ عقیدہ جس کا اعلان کسی کی زبان سے زبردستی کروایا جائے وہ نیکی نہیں ہے اور نہ کسی کا یہ حق ہے کہ وہ ایسا کر وائے۔اسی طرح وہ عمل صالح جو گردن پر تلوار رکھ کر کروایا جائے وہ بھی نیکی نہیں۔نیکی وہی ہے اور وہی عمل خدا کو پیارا ہے جس میں احکام الہی کی اطاعت مد نظر ہو۔خدا کے نزدیک ایک اچھا عقیدہ وہی ہے جسے انسان اپنی مرضی سے اختیار کرتا ہے۔اسلامی تعلیم کے مطابق عقیدہ صحیحہ یہ ہے کہ انسان خدا تعالیٰ کی اطاعت کرے اور اس کے مطابق اپنی زندگی میں اعمال بجالائے۔چنانچہ قرآن کریم نے اس مذہبی آزادی یعنی ایمان لانے یا نہ لانے کے اس اختیار کا جو خدا نے انسان کو دیا ہے متعد دجگہ ذکر کیا ہے۔اس وقت میں دو آیات کولوں گا۔اول۔اللہ تعالیٰ سورۃ کہف میں فرماتا ہے :۔وَقُلِ الْحَقُّ مِنْ رَبِّكُمْ فَمَنْ شَاءَ فَلْيُؤْ مِنْ وَمَنْ شَاءَ فَلْيَكْفُرُ إِنَّا أَعْتَدْنَا لِلظَّلِمِينَ نَارًا اَحَاطَ بِهِمْ سُرَادِقُهَا (الكهف : ٣٠) اے رسول ! تو لوگوں کو کہہ دے کہ یہ تو حقیقت ہے کہ قرآن کریم اور اسلامی تعلیم حق وصداقت پر مبنی ہے جو تیرے رب کی طرف سے نازل کی گئی ہے۔یہ ایک ایسی صداقت ہے جس سے اگر چہ انکار نہیں کیا جا سکتا لیکن کسی انسان پر کوئی زبردستی نہیں ہے فَمَنْ شَاءَ فَلْيُؤْ مِنْ جو آدمی چاہے اپنی