خطباتِ ناصر (جلد 7 ۔1977ء، 1978ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 233 of 584

خطباتِ ناصر (جلد 7 ۔1977ء، 1978ء) — Page 233

خطبات ناصر جلد ہفتم ۲۳۳ خطبہ جمعہ ۱۴ /اکتوبر۱۹۷۷ء مرضی سے ایمان لائے ، اپنی مرضی سے اپنے ایمان کا اعلان کرے وَ مَنْ شَاءَ فَلْيَكْفُرُ اور جو چاہے اپنی مرضی سے ایمان لانے سے انکار کرے اور کفر کی راہ کو اختیار کرے۔مگر کسی کو یہ نہ بھولنا چاہیے کہ اِنَّا اَعْتَدْنَا لِلظَّلِمِينَ نَارًا اَحَاطَ بِهِمْ سُرَادِ قُهَا خدا تعالیٰ نے ظالموں کے لئے جو فطرت انسانی کی صلاحیتوں کو بے موقع اور بے محل خرچ کرتے ہیں ( ظلم کے معنے کسی کام کو بے موقع ومحل کرنے کے ہیں) اور فطرت صحیحہ کے مطابق عمل نہیں کرتے ، داعی الی الخیر کی آواز کو نہیں سنتے ان کے لئے ایک ایسی آگ تیار کی گئی ہے جس کی چار دیواری نے ان کو گھیرا ہوا ہے۔فَمَنْ شَاءَ فَلْيُؤْ مِن کے متعلق قرآن کریم میں کئی اور جگہوں پر بھی اعلان ہوا ہے مثلاً یہی کہ اِنَّ الَّذِينَ قَالُوا رَبُّنَا اللهُ ثُمَّ اسْتَقَامُوا تَتَنَزَّلُ عَلَيْهِمُ الْمَلَيكَةُ وَلَا تَخَافُوا وَلَا تَحْزَنُوا وَ اَبْشِرُوا بِالْجَنَّةِ الَّتِى كُنتُمْ تُوعَدُونَ ( حم السجدة : ٣١) جو لوگ کہتے ہیں کہ ہمارا رب اللہ ہے اور مَنْ شَاءَ فَلْيُؤْ مِنْ کے مطابق وہ اپنے ایمان کا اعلان کرتے ہیں اور پھر ایمان پر استقامت اختیار کرتے ہیں فرشتے خدا تعالیٰ کی بشارتیں لے کر یعنی خدا تعالیٰ کے پیار کے پیغام لے کر ان پر نازل ہوتے ہیں اور ان سے کہتے ہیں جب خدا سے تمہارا تعلق ہے تو پھر اَلا تَخَافُوا وَلَا تَحْزَنُوا تمہیں کسی کا خوف نہیں ہونا چاہیے اور نہ کسی کا حزن۔تم سے جو غلطیاں ہوئیں وہ معاف ہو گئیں۔وَ ابْشِرُوا بِالْجَنَّةِ الَّتِي كُنْتُمْ تُوعَدُونَ تم خوش ہو جاؤ کہ خدا نے اپنی پیار کی جس جنت کا وعدہ کیا تھا خدا کی نگاہ میں تم اس کے مستحق ہو گئے۔پس گفتگو کے موقع پر ایک دوسرے کو آرام سے سمجھانا اور الہی بشارتوں کو یاد دلانا اور ایمان صحیح اور اعمالِ صالحہ کے نتیجہ میں انسان کے لئے جو انعامات مقدر ہیں ان کا ذکر کرنا اور خدا تعالیٰ کے فضلوں اور رحمتوں کو بیان کرنا یہ تو ٹھیک ہے لیکن اگر کوئی شخص نہیں مانتا تو اس سے زبر دستی کوئی نہیں کرنی۔انسان کی زندگی کا مقصد یہ ہے کہ وہ قرب الہی کو حاصل کرے تا کہ اسے کامل اطمینان نصیب ہو۔چنانچہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:۔يَايَتُهَا النَّفْسُ الْمُطْمَنَّةُ ارْجِعِي إِلَى رَبِّكِ رَاضِيَةً مَرْضِيَّةً (الفجر : ۲۹،۲۸) اس میں بتایا گیا ہے کہ اسلامی تعلیم کی رو سے انسان کو احسن تقویم کی صورت میں پیدا کیا