خطباتِ ناصر (جلد 7 ۔1977ء، 1978ء) — Page 195
خطبات ناصر جلد ہفتم ۱۹۵ خطبہ جمعہ ۲۳ ؍ستمبر ۱۹۷۷ء رَحْمَةٌ لِلْعَلَمِينَ صلی اللہ علیہ وسلم کی رحمت نے دنیا کی ہر چیز کا احاطہ کیا ہوا ہے خطبه جمعه فرموده ۲۳ ر ستمبر ۱۹۷۷ء بمقام مسجد اقصیٰ ربوه تشہد وتعوذ اور سورۃ فاتحہ کی تلاوت کے بعد حضور انور نے فرمایا:۔اللہ تعالیٰ فرماتا ہے رَحمَتِي وَسِعَتْ كُلَّ شَيْءٍ (الاعراف:۱۵۷) کہ میری رحمت نے ہر چیز کا احاطہ کیا ہوا ہے۔نیز ہر چیز جو خدا تعالیٰ نے پیدا کی اور جس کا اس کی ربوبیت نے اور اس کی رحمت نے احاطہ کیا ہوا ہے وہ انسان کے لئے پیدا کی گئی ہے اور انسانِ کامل کو پیدا کرنا مقصود تھا یعنی محمد صلی اللہ علیہ وسلم کو۔چونکہ ہر چیز انسان کے لئے پیدا کی گئی ہے اس لئے اَسْبَغَ عَلَيْكُم نِعَمَهُ ظَاهِرَةً وَبَاطِنَةً (القمن: ۲۱) کہ ظاہر و باطن کی نعمتیں بڑی کثرت کے ساتھ انسان پر نازل ہوتی ہیں اور وہ گئی نہیں جاسکتیں۔دوسری جگہ آیا ہے کہ اگر تم خدا تعالیٰ کی نعمتوں کو گننا چاہو تو گن نہیں سکتے۔اس رحمت کو ظاہر کرنے کے لئے اور ایسے سامان پیدا کرنے کے لئے کہ انسان اللہ تعالیٰ کی ان وسیع رحمتوں کا عرفان حاصل کرے ایک ایسی ہستی ایک ایسا انسان پیدا کیا گیا جس کو کامل استعداد میں دی گئیں جو پورے طور پر نشو و نما حاصل کر چکی تھیں۔وہ انسان کی طرف بھیجا گیا تا کہ انسان کو بتایا جائے کہ جب خدا کا کوئی بندہ خدا کا ہو جاتا ہے تو پھر اللہ تعالیٰ کا اس کے ساتھ سلوک یہ ہوتا ہے کہ ہر چیز جو خدا نے پیدا کی ہے وہ اسی کی ہو جاتی ہے اور خدا تعالیٰ کی