خطباتِ ناصر (جلد 7 ۔1977ء، 1978ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 148 of 584

خطباتِ ناصر (جلد 7 ۔1977ء، 1978ء) — Page 148

خطبات ناصر جلد ہفتم ۱۴۸ خطبہ جمعہ ٫۵اگست ۱۹۷۷ء ، ہیں تو وہ کہتے ہیں کہ یہ تو سارے بے وقوف ہیں گویا اپنے تکبر کے نتیجہ میں وہ جماعت مخلصین کو بیوقوف اور احمق سمجھتے ہیں اور اپنے آپ کو بڑا عقلمند اور بہت بلند سمجھتے ہیں اور مصلح سمجھتے ہیں اور ان کو لیڈر بننے کا شوق ہوتا ہے اور جماعت مومنین کو وہ بڑی حقارت کی نگاہ سے دیکھتے ہیں اور ان کے ساتھ استہزا کرتے ہیں۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے فرمایا ہے کہ سورہ فاتحہ میں جو انْعَمْتَ عَلَيْهِمْ کے گروہ کا ذکر کیا گیا ہے وہ اپنی کیفیت اور کمیت کے لحاظ سے اور اپنی شان میں اُمت محمدیہ میں دو گروہ ہیں۔ایک وہ جنہوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے تربیت حاصل کی اور صحابہ کا گروہ کہلایا اور دوسرے وہ جو وَ أَخَرِيْنَ مِنْهُم لَمَّا يَلْحَقُوا بِهِمُ (الجمعة: ۴) کے ماتحت نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے بالواسطہ تربیت یافتہ ہیں۔ان دونوں گروہوں میں بڑی کثرت کے ساتھ خدا تعالیٰ سے پیار کرنے والے بے نفس وجود ہیں جن کے متعلق یہ ظاہر ہی نہیں ہوتا کہ ان کے دل میں اپنے رب کے ساتھ کتنا پیار اور عشق ہے۔مجھے اپنے مقام کے لحاظ سے احمدیوں سے بہت واسطہ پڑتا ہے۔ایسا اخلاص ہے ان میں اور اتنا ٹچھپ کر ان کے مخلصانہ کارنامے ہیں کہ آدمی حیران ہوجاتا ہے، میرے سامنے تو وہ بیان کر دیتے ہیں۔یہ گروہ ساری دنیا میں ہی پھیلا ہوا ہے۔کینیڈا کے ایک دوست مجھے خط لکھتے رہتے ہیں۔میرے وہم وگمان میں بھی نہیں آسکتا تھا کہ وہ اتنی مالی قربانی دینے والے ہیں۔میں نے وہاں بات کی تھی کہ مجھے پتہ لگنا چاہیے کہ تم قربانیاں کیا دیتے ہو؟ تو انہوں نے میرے یہاں آنے کے بعد پچھلے سال مجھے خط لکھا کہ آپ نے کہا ہے اس لئے میں بتا تا ہوں کہ میں یہ قربانی دے رہا ہوں ورنہ کسی کو پتہ نہیں تھا سوائے لینے والوں کے، ان کو بھی خیال نہیں ہوتا ہو گا۔غرض مُنْعَمُ عَلَيْهِمْ کے گروہ کے متعلق حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے فرمایا ہے کہ ایک تو صحابہ کا گروہ ہے جنہوں نے براہ راست اور بلا واسطہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے تربیت حاصل کی اور ایک وَ اخَرِيْنَ مِنْهُم والا گروہ ہے یعنی مہدی معہود کی جماعت جن کی تربیت خود نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے کی ہے اپنے ایک بروز کے واسطہ کے ذریعہ اور یہ جماعت ایسی ہے جس کے اندرا اپنی اپنی صلاحیت اور استعداد کے مطابق بڑی کثرت کے ساتھ خدا تعالیٰ۔