خطباتِ ناصر (جلد 7 ۔1977ء، 1978ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 136 of 584

خطباتِ ناصر (جلد 7 ۔1977ء، 1978ء) — Page 136

خطبات ناصر جلد ہفتم ۱۳۶ خطبہ جمعہ ۲۹ جولائی ۱۹۷۷ء ہو جائیں انسان کی خدمت کے لئے۔صرف اربوں کھربوں کی بات نہیں بلکہ اگر ان کو آپس میں ضرب دی جائے تب بھی ان کی تعداد زیادہ بنتی ہے۔بہر حال سائنسدانوں اور دانشوروں کا ایک طبقہ اس کا ئنات کو دیکھ کر اس طور سوچنے لگ گیا ہے کہ اس کا کوئی پیدا کرنے والا ہے۔انسان فطرت صحیحہ رکھتا ہے اس کے سامنے جب یہ چیز آتی ہے تو وہ اس بات کو ماننے پر مجبور ہو جاتا ہے کہ ہم ان سب چیزوں کو اتفاق نہیں کہہ سکتے ضرور کوئی مد بر بالا رادہ ہستی ہے جس نے اس کا ئنات کو پیدا کیا ہے۔اب میں پھر حضرت مسیح موعود علیہ السلام کا حوالہ پڑھتا ہوں۔آپ فرماتے ہیں:۔وجہ یہ ہے کہ خدا تعالیٰ کی یہ تمام مصنوعات اور یہ سلسلہ نظام عالم کا جو ہماری نظر کے سامنے موجود ہے یہ صاف طور پر بتلا رہا ہے کہ یہ عالم خود بخود نہیں بلکہ اس کا ایک موجد اور صانع ہے جس کے لئے یہ ضروری صفات ہیں کہ وہ رحمان بھی ہو اور رحیم بھی ہو اور قادر مطلق بھی ہو اور واحد لاشریک بھی ہو اور ازلی ابدی بھی ہو اور مدبر بالا رادہ بھی ہو اور مستجمع جمیع صفات کا ملہ بھی ہو اور وحی کو نازل کرنے والا بھی ہو۔یہ اقتباس اپنے اندر ایک وسیع مضمون رکھتا ہے۔اس وسعت میں تو اس وقت نہیں جاؤں گا کسی اور موقع پر بیان کیا جاسکتا ہے۔قرآن کریم کے کمال کی دوسری بات یہ بتائی گئی کہ فَرْعُهَا فِي السَّمَاءِ ایک تو یہ کہ اصولِ ایمانیہ لا إلهَ إلا الله ایک ثابت شدہ حقیقت ہے جس سے کوئی سعید فطرت انسان انکار نہیں کرسکتا۔انسان کی فطرت کے اندر بھی یہ بات پائی جاتی ہے اور اس کا ئنات کا مطالعہ کرنے سے بھی مدلل طور پر ثابت ہوتا ہے کہ یہ منتشر نہیں۔مثلاً ستارے ہیں ان میں کوئی مشرق کی طرف چل رہا ہوتا ہے اور کوئی مغرب کی طرف چل رہا ہوتا ہے مگر ان کو بھی ہر دوسری چیز کی طرح بعض معین نسبتوں میں باندھا گیا ہے۔دوسرے یہ کہ خدا تعالیٰ کا وہ قانون جو اس کا ئنات میں نافذ ہے اور قانونِ قدرت جو اس عالم میں کام کر رہا ہے جب ہم اس کا مشاہدہ کرتے ہیں تو ہمیں یہ معلوم ہوتا ہے کہ کلام پاک قانون قدرت کے ساتھ موافقت رکھتا ہے اور یہ بڑا لطیف مضمون ہے کہ خدا کا کلام اور خدا کا فعل اور خدا کے فعل کے نتیجہ میں انسانی فطرت جس کے لئے یہ کائنات بنائی گئی ہے ان تینوں میں