خطباتِ ناصر (جلد 7 ۔1977ء، 1978ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 135 of 584

خطباتِ ناصر (جلد 7 ۔1977ء، 1978ء) — Page 135

خطبات ناصر جلد ہفتم ۱۳۵ خطبہ جمعہ ۲۹؍ جولائی ۱۹۷۷ء محض اتفاق نہیں قرار دیا جا سکتا بلکہ ماننا پڑتا ہے کہ کوئی مد بر بالا رادہ ہستی ہے جس نے یہ کائنات تخلیق کی ہے، اس کا ارادہ اور حکم اس میں چلتا ہے۔غرض ساری کائنات کا اس اصول کے ساتھ بندھا ہوا ہونا اور ہمارے علم میں یہ بات آئی کہ کائنات کی ہر چیز کو انسان کے لئے مسخر کیا گیا ہے۔ہر چیز انسان کی خدمت پر لگا دی گئی ہے۔یہ خود اپنی ذات میں متصرف بالا رادہ ہستی کے وجود پر ایک بڑی زبر دست دلیل ہے یعنی اس کا ئنات میں کوئی انتشار نہیں پایا جاتا۔مخلوقات کی اتنی تعداد ہے کہ انسان کا ذہن اپنے تصور میں بھی وہ تعداد نہیں لاسکتا انسان کی سب گنتیاں ختم ہو جاتی ہیں۔کائنات کی ہر چیز انسان کی خدمت پر لگا دی گئی ہے، انسان کے لئے اس کی تسخیر ہے یعنی کائنات کی ہر چیز کو خدا کا حکم ہے کہ اس نے انسان کی خدمت کرنی ہے۔پس جب ہم کائنات پر غور کرتے ہیں تو لا إله إلا الله جو ہمارے ایمان کی بنیاد ہے وہ ثابت ہو جاتی ہے چنانچہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہیں:۔وجہ یہ کہ خدا تعالیٰ کی تمام یہ مصنوعات اور یہ سلسلہ نظام عالم کا جو ہماری نظر کے سامنے موجود ہے یہ صاف طور پر بتلا رہا ہے کہ یہ عالم خود بخود نہیں۔یعنی یہ کوئی اتفاق نہیں کہ ایسا ہو گیا ہو۔اب تو سائنسدانوں نے اتفاق کو سائنس بنادیا ہے۔اس علم کو مدون کر دیا ہے اور اس کا نام انہوں نے سائنس آف چانس رکھا ہے۔دس پندرہ سال ہوئے مجھے ایک چھوٹی سی کتاب ملی تھی سائنس آف چانس پر۔میں نے اس کا مطالعہ کیا تھا۔اب یہ علم آگے بڑھ گیا ہوگا لیکن جو بعد کی کتب ہیں وہ میرے مطالعہ میں نہیں آئیں۔جس مختصر سی کتاب کا میں ذکر کر رہا ہوں اور جونئی نئی آئی تھی اس کے مطالعہ سے مجھے معلوم ہوا کہ سائنس آف چانس کے نتیجہ میں چوٹی کے سائنسدانوں کا ایک گروہ اس بات کی طرف آ گیا تھا کہ انہیں بھی ماننا پڑے گا کہ اس کائنات کا کوئی خالق ہے جو اس کا پیدا کرنے والا ہے۔کوئی مد بر بالا رادہ ہستی ہے جو اس دنیا کو پیدا کرنے والی ہے۔یہ کائنات خود بخو دا تفاقیہ طور پر اور بے مقصد معرض وجود میں نہیں آگئی کیونکہ اتنے چانسز (Chances) اتنے اتفاقات اکٹھے ہو ہی نہیں سکتے خصوصاً جب یہ بات ہمارے سامنے ہو کہ یہ سارے اتفاقات ( جن کو دہر یہ لوگ اتفاقات کہتے ہیں ) اکٹھے