خطباتِ ناصر (جلد 7 ۔1977ء، 1978ء) — Page 130
خطبات ناصر جلد ہفتم کے قیام کے لئے کوئی نتیجہ نہ نکلا۔الله۔خطبہ جمعہ ۱۵ / جولائی ۱۹۷۷ ء پس جیسا کہ میں نے بتایا ہے یورپ نے، امریکہ نے اور روس نے اور انگلستان اور دوسرے مہذب کہلانے والے ممالک نے جس جس میدانِ زندگی میں ترقی کی ہر میدان میں چونکہ اللہ تعالیٰ سے تعلق قائم نہیں رکھا اور یہ بنیادی خطا ہے جو ان کی عقل سے سرزد ہوئی یعنی خدا تعالیٰ سے دُوری پیدا ہو گئی جس کے نتیجہ میں اُن کی عقلوں نے ہر میدان میں اتنی مخش غلطیاں کیں اور اتنا تضاد ان کی عقلوں میں پیدا ہو گیا کہ وہ ایک مصیبت بن گیا۔کوئی خرابی آج ظاہر ہوئی کوئی دس سال بعد جا کر ظاہر ہوئی کوئی پندرہ سال کے بعد اور کوئی بیس سال کے بعد ظاہر ہوئی۔اللہ تعالیٰ نے توفیق دی تو آئندہ کسی موقع پر تفصیل میں جا کر دس پندرہ مثالیں دے کر بتاؤں گا کہ انسانی عقل نے انسان کو نقصان پہنچانے کے لئے کیا سامان پیدا کئے جب انسانی عقل خدا تعالیٰ سے دور جا کر اس کی روشنی سے محروم ہو گئی۔اللهُ نُورُ السَّبُوتِ وَالْأَرْضِ (النور : ۳۶) خدا تعالیٰ جو آسمانوں اور زمین کا نور ہے اس نے عقل کے لئے ایک نور کے حصول کا راستہ بتایا تھا اور وہ یہ کہ اللہ کا قرب حاصل کرو۔اس کے ساتھ ذاتی تعلق کو قائم کرو۔اس سے محبت ذاتیہ کے نتیجہ میں اپنی زندگیوں پر ایک فاوار د کرو۔نور کے حصول کی اس راہ کو انہوں نے اپنے اوپر بند کر لیا اور محض اپنی عقل پر بھروسہ کرتے ہوئے بھلائی کی بجائے دکھوں کے سامان پیدا کر لئے۔ہم لوگ جو خدا تعالیٰ پر ایمان لاتے ہیں اور اسلام کی طرف منسوب ہوتے ہیں ہمارے لئے قرآن کریم نے کھول کر بیان کر دیا ہے کہ کس طرح اللہ تعالیٰ کے نور کو حاصل کرنے کے بعد عقل کا صحیح استعمال کیا جا سکتا ہے اور جس کے بغیر عقل صحیح نتائج پیدا نہیں کر سکتی اس لئے ہمیں قرآن کریم پر تدبر کرنا چاہیے، قرآن کریم کو غور سے پڑھنا چاہیے۔جن باتوں کے متعلق قرآن کریم نے کہا ہے کہ انسان کی صحیح عقل اس نتیجہ پر پہنچے گی اس کوعلی وجہ البصیرت سمجھنا چاہیے کہ واقعی وہ اس نتیجہ پر پہنچتی ہے جیسا کہ خدا تعالیٰ نے فرمایا ہے۔ماضی میں جائیں تو ایک وقت میں جب مسلمان اپنے عروج کو پہنچے ہوئے تھے تو قطع نظر