خطباتِ ناصر (جلد 7 ۔1977ء، 1978ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 129 of 584

خطباتِ ناصر (جلد 7 ۔1977ء، 1978ء) — Page 129

خطبات ناصر جلد ہفتم فرماتے ہیں۔۱۲۹ گر خرد پاک از خطا بودے ہر خرد مند با خدا بودے خطبہ جمعہ ۱۵ / جولائی ۱۹۷۷ ء یعنی اگر عقل خطا سے پاک ہوتی تو دنیا کا ہر عقل مند انسان با خدا ہوتا لیکن ہمیں تو یہ نظر آتا ہے کہ عقل مند کہلانے والے خدا سے دور چلے گئے اور خدا سے دوری میں وہ اپنی بڑائی محسوس کر رہے ہیں۔اس سے اگلے شعر میں آپ نے فرمایا ہے کہ سہو ونسیان اور خطا سے پاک تو وہی ذات ہے جو علام الغیوب ہے اور عالم الاشیاء ہے انسان تو ایسا ہو ہی نہیں سکتا۔انسانی پیدائش کا بنیادی مقصد یہ تھا کہ انسان خدا تعالیٰ کا عبد بنے اور انسان کو عقل اس لئے دی گئی تھی کہ وہ خدا تعالیٰ کی ہدایت پا کر دنیا میں خدا تعالیٰ کے قرب کی جنت اس طرح قائم کرے کہ انسان بحیثیت انسان سکھ اور چین کا سانس لے لیکن انسانی عقل سے اس سے بڑی خطا اور کوئی نہیں ہوئی کہ انسان نے نہ اپنے لئے بھلائی حاصل کی اور نہ نوع انسانی کے لئے دنیوی لحاظ سے بھلائی کے سامان پیدا کئے۔میں نے بتایا ہے کہ میں عقل کی خرابی کی سینکڑوں باتیں گنوا سکتا ہوں بغیر غور کئے یعنی مجھے وہ باتیں از بر ہیں جب مطالعہ کرتا ہوں تو وہ میرے سامنے آجاتی ہیں۔ان میں سے مثلاً میں ایک بات کو لیتا ہوں۔جب پہلی عالمگیر جنگ ہوئی تو بعض قوموں نے شکست کھائی اور بعض نے فتح حاصل کی۔جنگ کا فیصلہ ہوا تو لیگ آف نیشنز بنائی گئی اور کہا گیا کہ اس سے انسان کے امن کا سامان پیدا کر دیا ہے۔ایک طرف لوگ بنی نوع انسان کے لئے خصوصاً یورپ میں بسنے والے انسان کے لئے امن اور آشتی اور خوشحالی کے سامان پیدا کرنے کے لئے لیگ آف نیشنز کا سوچ رہے تھے اور کہتے تھے کہ دنیا پر بھی اس کا اثر پڑے گا اور انسان کے دکھوں کا علاج ہوگا۔دنیا میں بسنے والے انسان کو تو چھوڑ و خود یورپ میں ایک طرف اس دعوئی کے ساتھ لیگ آف نیشنز کو قائم کیا گیا اور دوسری طرف یورپین ممالک کے حصے بخرے کچھ اس طور پر لوگوں کی عقلوں نے کئے کہ امن قائم ہو ہی نہیں سکتا تھا جس کے نتیجہ میں دوسری عالمگیر جنگ کی بنیاد پڑی لیکن ہمیشہ کے امن