خطباتِ ناصر (جلد 7 ۔1977ء، 1978ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 128 of 584

خطباتِ ناصر (جلد 7 ۔1977ء، 1978ء) — Page 128

خطبات ناصر جلد ہفتم ۱۲۸ خطبہ جمعہ ۱۵ / جولائی ۱۹۷۷ء انسانوں کے لئے اطمینان و سکون خوشی و خوشحالی کے سامان پیدا کرنے کی بجائے یہی عقل بے اطمینانی ، بدحالی اور پریشانیوں کے سامان پیدا کر دیتی ہے۔چنانچہ ہمارا یہ زمانہ جو مہذب دنیا کا زمانہ کہلاتا ہے جب ہم اس پر نگاہ ڈالتے ہیں اور یورپ و امریکہ کو دیکھتے ہیں یا دوسرے ممالک جو بڑے مہذب کہلاتے ہیں ان کا مطالعہ کرتے ہیں تو اگر چہ سارے نہیں لیکن ان کا ایک بہت بڑا طبقہ ایسا پایا جاتا ہے جو یہ سمجھتا ہے کہ عقل محض انسان کے لئے کافی ہے۔انہیں خدا کی ، خدائی راہنمائی اور خدائی ہدایت کی ضرورت نہیں ہے۔کچھ ہمارے ملک میں بھی یہ اثر ان کی نقل کرتے ہوئے آ گیا ہے جب ہم ان عظمند کہلانے والے ممالک کے حالات اور ان کی عقل کے فیصلوں کا بغور مطالعہ کرتے ہیں تو ان کی عقل کی ہزاروں فحش غلطیاں ہمارے سامنے آتی ہیں اور بڑے مضحکہ خیز تضاد عقل، عقل کے درمیان پائے جاتے ہیں۔معاشرتی زندگی کے مختلف پہلوؤں میں ان کی عقل کے فیصلے جنہوں نے انسانوں کو دکھ پہنچا یاوہ ہمارے علم اور مشاہدہ میں آتے ہیں اور ان کی اتنی مثالیں ہیں کہ جب میں دورے پر پریس کانفرنس میں باتیں کرتا ہوں یا ان کے جو سکالرز ہیں اور محقق ہیں ان سے باتیں کرنے کا موقع ملتا ہے تو ان کو میں اس طرف توجہ دلا تا ہوں کہ تمہاری عقل نا کام ہوگئی اور تمہاری عقل نے تمہیں وہ فائدہ نہیں پہنچایا جو تم سمجھتے تھے کہ تمہاری عقل فائدہ پہنچائے گی اس لئے اب وقت آگیا ہے کہ عقل سے کام لیتے ہوئے اس عَلامُ الْغُيُوبِ ہستی کی طرف توجہ کرو جس کی ہدایت کے بغیر انسان کی عقلیں ناکارہ ہو جاتی ہیں بلکہ دکھ پہنچانے کا سبب بن جاتی ہیں۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے اس مضمون پر بھی بڑی بسط سے لکھا ہے کہ اگر خدا سے دوری ہو اور اللہ تعالیٰ کا الہام عقل کے ساتھ نہ ہو تو عقل میں یہ یہ خرابیاں پیدا ہو جاتی ہیں۔سب سے اہم خطا اور نہایت خطرناک خطا کہ جس سے بڑھ کر کوئی اور خطا سوچی نہیں جاسکتی وہ یہ ہے کہ عقل مند کہلانے کے باوجود وہ خدا کو نہیں پہچانتے اور اس میں شک نہیں کہ اس سے بڑی غلطی اور خطا کوئی اور ہوہی نہیں سکتی کہ عقلمند انسان بھی ہو اور خدا تعالیٰ کا انکار بھی کر دے۔چنانچہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام