خطباتِ ناصر (جلد 7 ۔1977ء، 1978ء) — Page 123
خطبات ناصر جلد ہفتم ۱۲۳ خطبہ جمعہ یکم جولائی ۱۹۷۷ء اپنے وقت پر آکر کھلتی ہیں اور جیسا کہ میں نے شروع میں بتایا تھا یہ قرآن کریم کی عظمت ہے، بہت بڑی عظمت ! کہ وہ ایک ایسا کلام ہے جس نے قیامت تک کے لئے انسان کی بہتری کے سامان کر دیئے۔ہر صدی کا ، ہر زمانے کا، ہر علاقے کا ، ہر ملک کا انسان قرآن کریم کا محتاج اور اس کی احتیاج سے وہ کبھی بھی آزاد نہیں ہو سکتا۔جیسا کہ میں ابھی بتا چکا ہوں مُتشبھت میں پیشگوئیاں بھی ہیں اور متشبھت میں قرآن کریم کی وہ تفسیر بھی ہے جو زمانہ زمانہ سے تعلق رکھتی ہے لیکن وہ ابدی صداقتوں کی روشنی میں ہے اس سے باہر نہیں اور ابدی صداقتوں کی ضد نہیں ہے بلکہ ان کی تائید کرنے والی ہے۔یہ ایک لمبا مضمون ہے میں مختصر کروں گا۔یہ تین باتیں ہو گئیں۔چوتھی بات ہمیں یہ پتنگتی ہے کہ قرآن کریم ایک عظیم کتاب ہے لیکن پھر بھی جن کے دلوں میں کجی اور نفاق ہے وہ ان آیات کے پیچھے پڑ جاتے ہیں جو متشابہ ہیں۔یہ ان آیات سے پتہ لگتا ہے ایک تو وہ ان آیات کے پیچھے پڑ جاتے ہیں جو متشابہ ہیں اور محکمات کی طرف نظر ہی نہیں اٹھا کر دیکھتے یعنی جو چیز واضح ہے، قطعی ہے، جس میں شبہ کی کوئی گنجائش نہیں اس کو تو چھوڑ دیتے ہیں اور جس میں تاویل ہوسکتی ہے، جس کے ایک سے زائد معنی ہو سکتے ہیں، جس کے سیکھنے کے لئے بہت کچھ کرنا پڑتا ہے اور جب اللہ تعالیٰ کا فضل نازل ہو تب خدا تعالیٰ خود وہ معانی سکھاتا ہے وہ ان متشابہات کے پیچھے پڑ جاتے ہیں اور پھر یہ کہ ان کے پیچھے پڑ کر ایک ایسی تاویل کرتے ہیں جو غلط ہوتی ہے۔وہ حقیقت سے دور لے جانے والی ہے۔آیات محکمات سے پرے لے جانے والی ، اس کی ضد اور اس سے متضاد ایک تفسیر اور تاویل کر دیتے ہیں اور ان کا جوا رادہ ہوتا ہے، ان کی جو نیت ہوتی ہے وہ بھی شیطانی ہوتی ہے۔ابتغاء الْفِتْنَةِ ، وہ فتنہ پیدا کرنا چاہتے ہیں، آیات قرآنیہ کے معانی کو ان کی حقیقت سے دور لے جاتے ہیں اور آیات محکمات کی ضد میں ان سے متضاد ایک معنی کر رہے ہوتے ہیں اور نیت ان کی ہوتی ہے فتنہ پیدا کرنا اور دعویٰ ان کا یہ ہوتا ہے کہ ہم تو صالحین کا گروہ ہیں ہم تو مصلح ہیں ، ہم تو اصلاح چاہتے ہیں۔پانچویں بات اس آیت سے یہ پتہ لگی کہ ایت محکمت کی تفسیر اللہ کے سوا کوئی نہیں جانتا