خطباتِ ناصر (جلد 7 ۔1977ء، 1978ء) — Page 92
خطبات ناصر جلد ہفتم ۹۲ خطبہ جمعہ ۱/۲۲ پریل ۱۹۷۷ء اس روشنی کو کہتے ہیں کہ جب وہ انسان کو حاصل ہو جائے تو وہ اس روشنی کے نتیجہ میں اپنے مسائل حل کرتا ہے اور کہیں اس کے لئے اپنے نفس سے بھی اور دوسروں سے بھی خفت اٹھانے کا موقع پیدا نہیں ہوتا۔جب تک علوم ظاہری علوم روحانی کے ساتھ باندھ نہ دیئے جائیں جیسا کہ خدا تعالیٰ کا منشاء ہے اس وقت تک نوع انسانی چین کی زندگی نہیں گزار سکتی۔یہ ایک ایسی حقیقت ہے جس سے کوئی شخص انکار نہیں کر سکتا ، وہ بھی نہیں کر سکتے جو اس وقت علوم ظاہری میں ظاہری مادی آسمانوں کی بلند یوں تک پہنچے ہوئے ہیں ، جنہوں نے چاند پر کمند ڈال دی اور دوسرے ستاروں کے گرد جا کر چکر لگالئے ان کو بھی قائل کیا جا سکتا ہے اور میں انہیں قائل کرتا رہا ہوں کہ تم نے باوجود اس کے کہ اتنا کچھ حاصل کر لیا اپنے مسائل حل کرنے میں تم نا کام رہے ہو۔دنیا چین کا سانس اسی وقت لے گی جب د نیوی علوم قرآن کریم کے علوم کے ماتحت ہو کر اس کے ساتھ بندھ کر قرآنی اور روحانی علوم کی روشنی میں استعمال کئے جائیں گے اور جیسا کہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے ذریعے جماعت احمدیہ کو بشارت دی گئی ہے اس بندھن کے بعد ، دنیوی علوم جب روحانی علوم کی اطاعت کریں گے تو اس اطاعت کے بعد ایسا معاشرہ پیدا ہو جائے گا۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے فرمایا ہے کہ جماعت روحانیت کی وجہ سے اور تقویٰ کے نور کی وجہ سے دنیوی علوم میں بھی اس قدر ترقی کرے گی کہ دنیا کے بڑے بڑے عالموں کا منہ بند کر دے گی اور ان علوم کے میدانوں میں احمدی دماغ اس قسم کی حقیقتیں دریافت کرے گا اور Discover (ڈس کور ) کرے گا کہ ان کے اپنے میدانوں کی جو غلطیاں ہیں وہ ان پر ظاہر کرے گا جیسا کہ ایک حد تک یہ کام شروع ہو گیا ہے لیکن یہ اپنے وقت پر ہوگا بہر حال اگر دنیا نے ، اگر انسان نے سکھ اور چین کا سانس لینا ہے تو ظاہری علوم کو روحانی علوم کے ماتحت کرنا پڑے گا۔سارے روحانی علوم جو انسان کو درکار ہیں وہ قرآن کریم کے اندر اللہ تعالیٰ نے رکھے ہوئے ہیں۔قرآن کریم کی ہر آیت کے بے شمار بطون ہیں ان میں یہ علوم رکھے ہوئے ہیں۔ان روحانی علوم کو اور قرآنی علوم کو حاصل کرنے کے لئے کتاب مکنون میں سے ان کو باہر نکالنے کے