خطباتِ ناصر (جلد 7 ۔1977ء، 1978ء) — Page 93
خطبات ناصر جلد ہفتم ۹۳ خطبہ جمعہ ۱/۲۲ پریل ۱۹۷۷ء لئے لا يَمَسُّةٌ إِلَّا الْمُطَهَّرُونَ کی رُو سے تزکیہ نفس کی ضرورت ہے اس کے بغیر یہ کام نہیں ہوسکتا۔پس جماعت کا یہ فرض ہے کہ وہ تزکیۂ نفس کی طرف توجہ کرے اور ہر آن خدا تعالیٰ سے لرزاں اور ترساں رہتے ہوئے اس بات کا خیال رکھے کہ اس کی زندگی کا کوئی لمحہ قرآن کریم کی ہدایت اور قرآن کریم کے اوامر اور نواہی کے خلاف نہ ہو بلکہ جس چیز سے روکا گیا ہے ہمارا ہر لمحہ اس سے رکنے والا ہو اور جس چیز کے کرنے کا حکم دیا گیا ہے ہماری زندگی کا ہر لمحہ اس کے مطابق اعمال بجالانے والا ہو۔اس کے نتیجہ میں وہ علوم عطا کئے جائیں گے جو علی وجہ البصیرت ہوں گے اور ایک روشنی اپنے ساتھ رکھیں گے جو اعمال اور افعال کی راہوں کو واضح اور منور کرنے والے ہوں گے اور جو خرابیاں علوم ظاہری کی بد استعمالی کے نتیجہ میں پیدا ہوئی ہیں وہ خرابیاں دور ہوں گی اور انسان کو سکھ اور آرام اور چین ملے گا۔انسان کی خیر خواہی آج ہم سے یہ تقاضا کرتی ہے۔دعا ہے کہ اللہ تعالیٰ ہمیں اس کے سمجھنے اور اس کے مطابق اپنی زندگیاں گزارنے کی توفیق دے اور اپنے فضل سے ہمیں وہ علوم عطا کرے جو تقویٰ کی شرط کے ساتھ بندھے ہوئے ہیں یعنی قرآنی علوم اور روحانی اسرار اور ہمیں یہ توفیق دے کہ دنیوی علوم کو بھی ان کے تابع اور ماتحت کر کے ہم انسان کی بھلائی کے سامان پیدا کرنے والے ہوں۔(روز نامه الفضل ربوه ۲ / جون ۱۹۷۷ ء صفحه ۲ تا ۴ )