خطباتِ ناصر (جلد6۔ 1975ء، 1976ء) — Page 596
خطبات ناصر جلد ششم ۵۹۶ خطبہ جمعہ ۵ /نومبر ۱۹۷۶ء روحانی خزائن لینے کے لئے یہاں آئے تھے اور وہ ان کو ملے۔غرض انہوں نے ایک تھوڑی جگہ میں زمین پر کسیر بچھا کر رہنا گوارا کر لیا اور بڑے خوش ہوئے۔ایسا تو اب بھی کریں گے لیکن اہل ربوہ سے میں یہ کہوں گا کہ اگر ان کے پاس اور کچھ نہیں تو ایک کوٹھڑی ہی دے دو لیکن دوضرور۔میں امریکہ کا دورہ کر کے آیا ہوں وہاں سے جلسہ سالانہ پر جو وفود آتے ہیں اس سلسلہ میں بعض باتیں مجھے بتائی گئیں۔بعض کی اصلاح کی ضرورت تھی ان کے متعلق میں نے بات کی۔میں نے ان سے کہا کہ تم اگر ہزاروں کی تعداد میں آؤ تب بھی تم ہمارے سینوں کو وسیع پاؤ گے۔ہم تمہاری میز بانی کریں گے ہم تمہارا خیال رکھیں گے۔جن چیزوں کی تمہیں عادت ہے ہم اس میں تمہیں سہولت پہنچانے کی کوشش کریں گے لیکن بعض چیزیں ایسی ہیں کہ وہ ہم نہیں کر سکیں گے اور تم بھی خوش ہو گے مثلاً اب ہم تمہیں چار پائی دیتے ہیں لیکن جب تم کثرت سے آؤ گے تو ہم تمہیں کہیں گے کہ دوسرے احمدیوں کی طرح زمین پر کسیر بچھا کر تم بھی لیٹو تو تم بھی لیٹو گے اور خوشی سے لیٹو گے اور شکر کرو گے واپس جا کر کہ ہمیں خدا تعالیٰ کی باتیں سننے کی خاطر خدا نے ہمیں یہ چھوٹی سی تکلیف برداشت کرنے کی توفیق دے دی لیکن بعض اور چیزیں بڑی ضروری ہیں ان کی طرف توجہ کرو۔آپ کو بتانے کی ضرورت نہیں وہ ان کے ساتھ تعلق رکھتی ہیں۔ان کی اصلاح کے لئے بعض چیزیں ان کے سامنے رکھنی ضروری تھیں۔وہ میں نے ان کو بتا ئیں میں نے ان کو یہ بتایا کہ میں تمہیں یہ نہیں کہتا کہ تم کم تعداد میں آؤ۔میں تو یہ کہتا ہوں کہ تم جتنے زیادہ سے زیادہ آسکتے ہو آؤ لیکن جلسہ سالانہ پر حاضری دینے کی نسبت بعض ذمہ داریاں زیادہ اہم ہیں ان کو نظر انداز کر کے جلسہ سالانہ پر نہ آؤ پہلے ان ذمہ داریوں کو پورا کرو اور پھر جلسہ سالانہ پر آؤ۔بڑی خوشی سے آؤ اور جتنی زیادہ تعداد میں آنا چاہو آؤ۔بہر حال میں اہل ربوہ سے یہ امید رکھتا ہوں اور میں اس کا آج اعلان کر رہا ہوں کہ ربوہ کے مکین مہدی علیہ السلام کے مہمانوں کے لئے اپنے مکانوں کا کوئی نہ کوئی حصہ چھوٹا ہو یا بڑا جو بھی خالی کر سکیں وہ جلسہ سالانہ کے نظام کو دیں۔دوسری بات میں ربوہ سے باہر رہنے والے احمدی دوستوں اور جماعتوں سے کہنا چاہتا