خطباتِ ناصر (جلد6۔ 1975ء، 1976ء) — Page 557
خطبات ناصر جلد ششم ۵۵۷ خطبه جمعه ۲۲/اکتوبر ۱۹۷۶ء پبلسٹی کے ضمن میں میں یہ بھی بتا دوں کہ امریکہ میں ہر جگہ کافی پبلسٹی ہوئی۔بعض چیزیں تو میرے لئے حیران کن ہیں مثلاً نیو یارک میں جو پریس کانفرنس تھی وہاں اخباروں کے نمائندوں کے علاوہ ٹی وی اور ریڈیو کے نمائندے بھی آئے ہوئے تھے۔ٹی وی والوں نے ۳۰ منٹ کی ایک فلم تیار کی جسے اُسی دن تو دکھا نہیں سکتے تھے مجھے بعد میں پتہ چلا کہ انہوں نے ۳۰ منٹ کی ٹی وی رنگین فلم دکھا دی ہے اور ۳۰ منٹ کی فلم بڑی چیز ہے۔مجھے ایک امریکن احمدی دوست نے ایک دفعہ ملاقات کے دوران اپنے جوش کا اظہار کیا ہر ایک دل میں جوش پیدا ہوتا ہے اور خیالات آتے ہیں کہ یوں کرنا چاہیے اور یوں کرنا چاہیے۔خیر انہوں نے کہا ہمارا پرا پیگینڈا ریڈیو پر نہیں آسکتا کیونکہ وہ بڑے پیسے مانگتے ہیں۔ریڈیو والے ایک سو ڈالر یعنی ایک ہزار روپے فی منٹ مانگتے ہیں۔اگر روزانہ دس منٹ لئے جائیں تو دس ہزار روپیہ اور ایک مہینے کا تین لاکھ روپیہ اور سال کا ۳۶ لاکھ روپیہ بنتا ہے یہ تو ہم Afford نہیں کر سکتے۔اس کے دماغ میں ایک سکیم آئی تھی کہ آپ اس طرح کریں تو ہمیں مفت میں پبلسٹی مل جائے گی۔وہ بھی کچھ جائزہ لیا ہے بعض ایسے راستے ہیں کہ نسبتاً ستا وقت ہمیں مل سکتا ہے۔بہر حال یہ تو امریکن جماعتوں کا کام ہے وہ خود ہی کریں گی ہمیں اس کی فکر نہیں۔سویڈن میں ۴۰ اخباروں نے خبریں دیں۔جرمنی میں ایسی جگہوں کے اخباروں نے دیا کہ ان اخباروں کے نام کا بھی ہمارے مبلغ کو پتہ نہیں۔وہاں ایک جگہ ایک ایجنسی کی نمائندہ آئی ہوئی تھی اس نے کہا ۴۰ اخبار ہیں جن کو میں خبریں پہنچاتی ہوں اور ۴۰ ہی کو میں نے خبریں بھجوائی ہیں۔غرض اس طرح لاکھوں لاکھ لوگوں تک پیغام پہنچ گیا۔یہ درست ہے کہ وہ ایک دن میں احمدی نہیں ہوں گے لیکن یہ درست ہے کہ احمدیت کی وجہ سے وہاں ایک انقلابی حرکت ہمیں نظر آنے لگ گئی ہے اور اُن میں ٹھہراؤ نہیں ہے بلکہ ایک حرکت ہے اور جماعت آگے بڑھ رہی ہے اور ہر حرکت جو آگے بڑھتی ہے ایک وقت میں Momentum Gain کرتی ہے اس میں ایک تیزی پیدا ہوتی ہے پھر وہ تیزی بڑھتی چلی جاتی ہے اور پھر بڑی جلدی انقلاب آجاتا ہے۔یہ انقلاب میرے اور آپ کے لئے نہیں۔یہ اللہ اور اس کے محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے لئے ہے اُسی کی خبر دی گئی ہے میں کس باغ کی مولی ہوں اور آپ کی کیا حیثیت ہے سوائے خدا اور