خطباتِ ناصر (جلد6۔ 1975ء، 1976ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 473 of 664

خطباتِ ناصر (جلد6۔ 1975ء، 1976ء) — Page 473

خطبات ناصر جلد ششم ۴۷۳ خطبہ جمعہ ارجون ۱۹۷۶ء پوچھا گیا تو انہوں نے کہا۔كَانَ خُلُقُهُ الْقُرْآنُ آپ کی زندگی کے متعلق معلوم کرنا چاہتے ہو تو قرآن کریم کو دیکھ لو کیونکہ آپ کی زندگی قرآن کریم کی عملی تفسیر ہے۔قرآن کریم اللہ تعالیٰ کا قول ہے اور اس قول کے مطابق حضرت نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی زندگی قرآنی تعلیم کا علمی نمونہ ہے۔آپ کی عملی زندگی کے تمام حسین مظاہرے قرآن کریم کی تعلیم کو ظاہر کرنے والے ہیں اس کو روشن کرنے والے اور اس کے حسن کو دوبالا کر کے دنیا کے سامنے پیش کرنے والے ہیں۔پس اس سے یہ نتیجہ نکلا کہ جماعت احمدیہ کا طرہ امتیاز یہ ہے کہ جماعت کے ہر فرد کو اور ہر خاندان کو بیگن ہے اور اس کے دل میں یہ تڑپ ہے کہ اس کی زندگی بھی حضرت نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی اتباع میں اور آپ کے اسوۂ حسنہ کی پیروی میں قرآنی تعلیم کے مطابق خُلق کو ظاہر کرنے والی ہو۔البتہ یہ صحیح ہے کہ یہ نیک جذبہ جب پیدا ہوتا ہے تو وہ اُسی وقت اپنی انتہا کو نہیں پہنچتا۔محبت کے تقاضے منٹوں میں پورے نہیں ہوا کرتے۔محبت کی شدت بھی ایک وقت کے بعد ہی پیدا ہوتی ہے۔حضرت نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے متعلق جب یہ کہا گیا کہ كَانَ خُلُقُهُ الْقُرْآنُ تو یہ بھی کہا گیا کہ آپ کی اس حسین زندگی کا جو اظہار تھا وہ ایک دن میں نہیں ہوگیا تھا بلکہ یھی اسی طرح Unfold ( آن فولڈ ) ہوئی جس طرح گلاب کی پتیاں کھل کر گلاب کا پھول بنتی ہیں۔حضرت نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے کامل اخلاق کے ظہور پر وہ سارا زمانہ گزرا جس زمانہ میں قرآن کریم کا نزول ہوتا رہا۔قرآن کریم پہلے دن ہی سارے کا سارا تو نازل نہیں ہو گیا تھا۔غیروں نے اس کا مطالبہ بھی کیا تو انکار کر دیا گیا کہ اس طرح نہیں ہوگا۔چنانچہ قرآن کریم ٹکڑے ٹکڑے ہو کر حضرت نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم پر نازل ہوا اور دنیا کے ہاتھ میں دیا گیا اور اس طرح آپ کا عمل ہر روز تدریجی طور پر اسلامی تعلیم کے ایک سے ایک حسین پہلو کو ظاہر کرنے ولا بنتا چلا گیا اور اس میں روز بروز ترقی ہوتی چلی گئی اور اس میں بھی عجیب حکمت تھی۔ابھی بات کرتے ہوئے مجھے خیال آیا کہ اگر ہم نے حضرت نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی کامل اتباع کرنی تھی تو اس کا مطلب یہ تھا کہ ہم اپنی زندگی کا ایک لمبا عرصہ بلکہ یہ کہنا چاہیے کہ مرتے دم تک اپنی تربیت اور محاسبہ نفس اور اصلاح نفس میں گزاریں اور کوشش کریں کہ ہماری زندگی حضرت نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی